رسائی کے لنکس

پاک امریکہ کشیدگی: کل جماعتی کانفرنس بلانے کا فیصلہ

  • یاسر منصوری

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سراغ رساں ایجنسی آئی ایس آئی پر عسکریت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک سے گٹھ جوڑ کے الزامات کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

اس بحرانی صورت حال کے تناظر میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے صلاح و مشورے کے بعد جمعرات کو اسلام آباد میں ایک کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

کانفرنس کا مقصد تمام سیاسی رہنماؤں کو پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بارے میں آگاہ کرنا اور ایک متفقہ حکمت عملی اپنانے کے بارے میں اعتماد میں لینا ہے۔

پاکستانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس میں اعلیٰ فوجی عہدے دار شرکاء کو قومی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی بریفنگ بھی دیں گے۔

دریں اثنا فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پیر کو اپنا دورہ برطانیہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لندن میں قیام کے دوران جنرل کیانی نے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اور رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوشش کو اجاگر کرنا تھا۔

برطانوی حکام نے اُن کے دورے کی منسوخی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل کیانی کی وزیر دفاع لیام فاکس (Liam Fox) سے ملاقات بھی متوقع تھی۔

دریں اثنا وزیر اعظم گیلانی نے نیو یارک میں موجود وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کو ہدایت دی ہے کہ وہ منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں انسداد دہشت گردی سمیت اہم معاملات پر پاکستان کا موقف بھرپور انداز میں پیش کریں۔

وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ موجودہ صورت حال کے تناظر میں مختلف عالمی رہنماؤں سے ہونے والی حالیہ بات چیت پر وہ وطن واپسی پر سیاسی رہنماؤں کو تفصیلی بریفنگ بھی دیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنرل کیانی نے پاک امریکہ کشیدگی اور قومی سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اپنے اعلیٰ ترین کمانڈروں کا ایک ہنگامی اجلاس اتوار کو طلب کیا تھا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا۔

فوج کی طرف سے اس اجلاس میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں البتہ ایک انگریزی روز نامے نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت نے امریکی دباؤ کے باوجود قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے مشتبہ ٹھکانوں کے خلاف مستقبل قریب میں کوئی نیا آپریشن شروع نا کرنے کے موقف کو دہرایا۔

XS
SM
MD
LG