رسائی کے لنکس

افغانستان: امریکی افواج کے قیام میں توسیع پر پاکستانی قانون سازوں کی رائے


رکن قومی اسمبلی رکن رانا محمد افضل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت افغانستان میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کچھ عرصہ مزید امریکی فورسز موجود رہیں۔

پاکستان کے قانون سازوں اور تجزیہ کاروں نے افغانستان میں امریکی افواج کو 2016ء کے بعد بھی تعینات رکھنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے افواج کے انخلاء سے متعلق جمعرات کو ترمیم شدہ منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2016 میں بھی امریکی فوجیوں کی موجودہ تعداد یعنی 9,800 اہلکار افغانستان میں تعینات رہیں گے اور 2017 میں جب وہ اقتدار چھوڑ رہے ہوں گے تو اُس وقت بھی لگ بھگ 5,500 فوجی افغانستان میں ہوں گے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے رکن رانا محمد افضل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت افغانستان میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کچھ عرصہ مزید امریکی فورسز موجود رہیں۔

’’میں سجمھتا ہوں کہ اس سے افغانستان میں استحکام لانے میں بہت بہتری ہو گی۔۔۔۔ انھوں (صدر اوباما) نے ایک سال کی اور توسیع کی ہے میرے خیال میں تو دو تین سال کی توسیع کر دینی چاہیئے تھی تاکہ اس علاقے کے اندر استحکام آئے اور افغانستان کے استحکام سے پاکستان کو بھی یقینناً فائدہ ہو گا۔‘‘

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ اور موجودہ رکن قومی اسمبلی آفتاب شیرپاؤ کہتے ہیں کہ افغانستان میں شدت پسندی پر قابو پانے کے لیے وہاں فورس کی ضرورت تو تھی۔

’’کوئی نا کوئی پشت پناہی کے لیے ایسی فورس کی ضرورت تو ہے جو کہ اس (شدت پسندی) کو روک سکے۔۔ ورنہ صورت حال خراب ہو گی ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ وہاں (افغانستان) میں حالات کو خراب نہیں ہونے دینا چاہیئے۔‘‘

اُدھر افغان طالبان نے صدر براک اوباما کی طرف سے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے عمل کو سست کرنے کے فیصلے کو ’’غیر منطقی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی طرف سے امریکی اہداف پر حملوں کو تیز کیا جائے گا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان ملک میں موجود غیر ملکی فوجیوں کے خلاف اپنے حملوں کو نہیں روکیں گے۔

لیکن افغان صدر اشرف غنی نے صدر براک اوباما کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ’’ یہ دونوں صدور کے درمیان کئی ماہ سے جاری مذاکرات‘‘ کا نتیجہ ہے۔

دریں اثناء اسلام آباد میں امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن کو پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کا نمائندہ خصوصی بنائے جانے کو بھی پاکستانی قانون سازوں نے ایک خوش آئند اقدام قرار دیا ہے۔

رکن قومی اسمبلی رانا افضل نے سفیر رچرڈ اولسن کی تعیناتی پر کہا کہ ’’رچرڈ اولسن کا کردار بڑا مثبت رہا اور انھوں نے پاکستان میں بڑا اچھا وقت گزارا ۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُنھوں نے اس وقت اس خطے کے حالات پر گہری نظر سے کام کیا ہے تو یقیناً وہ امریکہ کے لیے بہت بہتر نمائندے ہوں گے کیونکہ یہاں کے حالات کو وہ شاید دوسروں سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔‘‘

آفتاب شیرپاؤ کہتے ہیں کہ سفیر رچرڈ اولسن اس خطے کے معروضی حالات سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔

’’رچرڈ اولسن ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں اور کیوںکہ وہ اس خطے میں اور پاکستان میں رہے ہیں، تین سال سے وہ بخوبی سمجھتے ہیں۔‘‘

سفیر رچرڈ اولسن ڈین فیلڈمین کی جگہ لیں گے جن کے عہدے کی میعاد 18 ستمبر کو ختم ہو گئی تھی۔ رچرڈ اولسن پاکستان میں بطور سفیر خدمات سرانجام دینے کے بعد17 نومبر کوامریکی نمائندہ خصوصیبرائے افغانستان و پاکستانکی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

XS
SM
MD
LG