رسائی کے لنکس

’’امریکہ پاکستان میں خواتین پر تشدد کے خاتمے میں بھرپور مدد دے گا‘‘

  • حسن سید

’’امریکہ پاکستان میں خواتین پر تشدد کے خاتمے میں بھرپور مدد دے گا‘‘

’’امریکہ پاکستان میں خواتین پر تشدد کے خاتمے میں بھرپور مدد دے گا‘‘

امریکی سفیر کیمرون منٹر کی اہلیہ میریلین وائٹ نے جمعرات کو اسلام آباد میں تشدد کا شکار خواتین کے لیے قائم بےنظیر بھٹو سینٹرکا دورہ کیا اور یہاں موجود عورتوں سے ان کے مسائل دریافت کیے۔

پاکستان بھر میں اس وقت چھبیس ایسے مراکز قائم ہیں جو 2004سے پریشان حال خواتین کو تحفظ کے علاوہ مالی اور قانونی امداد فراہم کر رہے ہیں۔

امریکی سفیر کا دورہ عالمی سطح پر خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے جاری سولہ روزہ مہم کا حصہ تھا۔

اس موقع پر وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں میریلین وائٹ نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان میں خواتین کی ترقی کا پختہ عزم رکھتا ہے اور عورتوں کو با اختیار بنانا دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان جاری اسٹریٹیجک مذاکرات کا اہم حصہ بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ بےنظیر بھٹو سینٹر برائے خواتین کو مستحکم بنانے کے لیے بھرپور اعانت کرے گا تا کہ تشدد کا شکار زیادہ سے زیادہ عورتوں کو ریلیف حاصل ہو سکے۔’’اس طرح کے مراکز مصیبت زدہ خواتین کو پناہ فراہم کرتے ہیں جس کی انہیں اشد ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا‘‘۔

میریلین وائٹ نے چار سینٹروں کے لیے ایک لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ بین الاقوامی ترقی کا امریکی ادارہ یواایس ایڈ عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمے اور انہیں با اختیار بنانے کے لیے چار کروڑ ڈالر کا ایک بڑا منصوبہ شروع کر رہا ہے جس کے تحت اگلے پانچ سالوں کے دوران غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

بےنظیر بھٹو مرکز اسلام آباد کی منتظم ریحانہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ادارہ اپنے طور پر خواتین تک نہیں پہنچتا بلکہ مختلف ذرائع سے عورتیں یہاں آ کر پناہ لیتی ہیں جن میں سے بعض غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے لائی جاتی ، بعض عدالتوں کی طرف سے سپرد کی جاتی ہیں جبکہ کچھ اپنے طور پر یہاں آ تی ہیں جس کے بعد ان کے رہن سہن اور خوراک سمیت تمام ذمہ داری ادارے کی ہوتی ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر ادارے انہیں روز گار کی فراہمی یا مخالف فریق کے ساتھ صلح صفائی میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت اسلام آباد سینٹر میں تقریباً 33 خواتین یہاں پناہ لئے ہوئے ہیں جبکہ ان کے بچوں کی تعداد 18 ہے۔

XS
SM
MD
LG