رسائی کے لنکس

یو ایس ایڈ کے اندازے کے مطابق 2013ء میں وادی سوات میں سیاحت کی صنعت کو مزید فروغ ملے گا اور یہ منافع پچاس لاکھ ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

صوبہ خیبر پختون خواہ کے گورنر شوکت اللہ خان اور امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے جمعرات کو اسلام آباد میں کاروباری افراد کے ہمراہ وادی سوات میں معیشت کی بحالی کے حوالہ سے منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔

امریکی سفارت خانے سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ)، خیبر پختونخوا حکومت، صوبائی محکمہ سیاحت اور وادی سوات کے کاروباری افراد کے مابین مضبوط شراکت داری نے سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدن کا حجم 42 لاکھ ڈالر تک پہنچا دیا اور 2000 نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کیے گئے۔

امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بدامنی اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے اس علاقے کو بری طرح متاثر کیا اور 2010ء میں امریکہ اور حکومت پاکستان نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ سوات میں معیشت کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔

’’سوات میں سیاحت کی صنعت کی بحالی کی کاوشوں کی وجہ سے علاقے میں روزگار کے نئے مواقع میسر آئے اور وادی سوات کے لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہوا۔‘‘
(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)


2010ء شورش اور سیلاب کی وجہ سے سوات میں ہوٹلوں کو شدید نقصان پہنچا اور آمدن میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور ماہی پروری کو بھی ایسے ہی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

خطے میں معاشی بحالی کے عمل کو شروع کرنے کے لیے یو ایس ایڈ نے 2010ء میں صوبائی تعمیر نو، بحالی و آباد کاری کے ادارے کے ہمراہ سوات میں سیاحت کی بحالی کی کوششوں کا آغاز کیا جس کے لیے امریکہ نے 54 لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کی۔

امریکی سفارت خانے سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’’امریکہ نے 239 ہوٹلوں کو مالی و فنی اعانت،دیگر معاونت بشمول تعمیراتی میٹریل، سازوسامان و دیگر آلات فراہم کیے۔ اس اعانت کی بدولت ان کے کاروبار کو بڑی کامیابیاں ملیں۔ اس وقت ہوٹل منصوبہ شروع ہونے سے پہلے کی بہ نسبت آٹھ گنا زیادہ کما رہے ہیں۔‘‘

یو ایس ایڈ کے اندازے کے مطابق 2013ء میں وادی سوات میں سیاحت کی صنعت کو مزید فروغ ملے گا اور یہ منافع پچاس لاکھ ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
XS
SM
MD
LG