رسائی کے لنکس

ویلنٹائن ڈے پر گُل فروشوں کی چاندی


ویلنٹائن ڈے پر گُل فروشوں کی چاندی

ویلنٹائن ڈے پر گُل فروشوں کی چاندی

ویلنٹائن ڈے یا محبت کرنے والوں کا دن زمانہ قدیم سے ہرسال 14فروری کو منایا جاتا ہے اور گذشتہ کچھ برسوں کے دوران یہ مغربی تہوار پاکستان میں بھی مقبولیت حاصل کرچکاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گلاب کا ایک پھول دس سے بیس روپے کی بجائے پچاس سے سو اور کچھ مقامات پر دو سو روپے میں بھی فروخت ہورہا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پھولوں کی ایک دکان پر موجود محمد شوکت سے جب پوچھا گیا کہ یک لخت پھول مہنگے کیوں ہوگئے ہیں تو ان کا جواب کچھ یوں تھا”کیا رمضان میں کجھوریں اور پکوڑے مہنگے نہیں ہوتے، کیا عید کے موقع پر چیزیں پہلے سے زیادہ مہنگی نہیں ہوتیں، تو اسی طرح ویلنٹائن ڈے پر دوسری چیزوں کی بجائے پھولوں کی بہت مانگ ہوتی ہے“۔

محمد شوکت کا دلچسپ جواب اپنی جگہ مگر یہ بات بھی مشاہدے میں آئی کہ پھول مہنگے ہونے کے باوجود عام دنوں کی نسبت لوگوں کی زیادہ تعداد یہاں موجود تھی۔

محمد اشرف بھی پھولوں کے بیوپاری ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پھول مہنگے ہونے کی وجہ سے لوگ گلدستے کم ہی خریدتے ہیں کیونکہ عام دنوں کی نسبت ان کی قیمت تقریباً دوگنی ہوجاتی ہے”مگر گلاب کی کلیاں اتنی بِک جاتی ہیں کہ گلدستوں کی کسر پوری ہوجاتی ہے۔“

ویلنٹائن ڈے پر گُل فروشوں کی چاندی

ویلنٹائن ڈے پر گُل فروشوں کی چاندی

دل کی شکل کے سفید اور سرخ غبارے بیچنے والے ملازم حسین نے بتایا کہ عام دنوں میں ان کی قیمت دس سے پندرہ روپے تک ہوتی ہے لیکن اس خاص دن پر ان مخصوص غباروں کی قیمت بیس سے تیس روپے فی عدد ہے۔

سپر اور جناح سپر مارکیٹ اسلام آباد کی دو بڑی اور مصروف مارکٹیں ہیں۔ یہاں تحائف کی بڑی دکانوں کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔محمد عتیق ایک ایسی ہی دکان کا انتظام سنبھالتے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ بلاشبہ اس موقع کی مناسبت سے کاروبار میں بہتری آئی ہے ” ہر عمر کے لوگ اپنی پسند کی چیزیں خرید رہے ہیں جن میں سٹف ٹوائزاور چاکلیٹس زیادہ فروخت ہورہی ہیں۔“

ویلنٹائن ڈے پر گُل فروشوں کی چاندی

ویلنٹائن ڈے پر گُل فروشوں کی چاندی

عدنان رفیق اپنی بیگم کے ساتھ کچھ تحائف پیک کروارہے تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ ان دونوں نے ایک دوسرے کے لیے تحفے خریدے ہیں۔ ان کا کہنا تھا”لائف میں اتنی ٹینشن ہے، اور روز مرہ معاملات میں مختلف نوعیت کے اضطراب سے زندگی میں بہت تناؤرہتا ہے مگر ایسے تہوار آکسیجن والوز کا کام کرتے ہیں اور انھیں ضرور منانا چاہیے“۔

مسز عدنان نے کہا کہ”محبت کا اظہار کرنے کے لیے کسی خاص دن کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن مجھے خوشی ہے کہ اس دن کی مناسبت سے ہی سہی انھیں(اپنے شوہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) خیال تو آیا “۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جہاں ایسے مغربی تہوار ہمارے معاشرے میں مقبولیت حاصل کررہے ہیں وہیں اس خطے کے بہت سے تہوار اپنی مقبولیت کھوتے جارہے ہیں جن میں سے ایک بسنت بھی ہے۔ ان کے بقول بسنت پر پابندی کے باعث اس تہوار سے جڑے بہت سے اور دلکش پہلو بھی دم توڑتے جارہے ہیں۔ لیکن بسنت پر پابندی کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے پر ”کسی کا گلا تو نہیں کٹتا“ اور پتنگ باز جیسی دھاتی تاریں استعمال کرتے ہیں اس سے یہ تہوار ہرسال کئی لوگوں کی جان بھی لے جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG