رسائی کے لنکس

لاہور: دہشت گرد حملے میں 9 پولیس اہلکار ہلاک

  • اسلام آباد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پنجاب میں سکیورٹی اہلکاروں پر اس ہفتے یہ دوسرا مہلک حملہ ہے جس کی پاکستانی طالبان نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔

پاکستانی حکام نے کہا ہےکہ نقاب پوش مسلح دہشت گردوں نےجمعرات کو صُبح سویرے لاہورمیں زیرتربیت کم ازکم 9 پولیس اہلکاروں کوہلاک اورتین کو زخمی کردیا۔

ابتدائی تحقیقات میں پولیس حکام نےحملہ آوروں کی تعداد 10 بتائی ہے جو صوبائی دارالحکومت کے علاقے اِچھرہ میں ایک گھر میں گھس کروہاں موجود افراد پراندھا دھند فائرنگ کرنے کے بعد فرار ہوگئے۔

لاہور پولیس کے سربراہ اسلم ترین نے صحافیوں کو واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملے کا نشانہ بننے والے زیر تربیت اہلکاروں کا تعلق شمال مغربی خیبر پختون خواہ صوبے سے ہے۔

’’صبح 6 بجے کے قریب تین موٹر سائیکلوں پر سوار نقاب پوش مسلح افراد نے گھر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ حملے کا شکار ہونے والے پنجاب جیل اکیڈمی میں تربیت حاصل کررہے تھے۔‘‘

خیبر پختونخواہ کے محکمہ جیل خانہ جات کے حکام نے تبایا کہ 50 اہلکاروں کو تربیت کے لیے پنجاب جیل اکیڈمی بھیجا گیا تھا جن میں سے 15 ادارے کے ہاسٹل میں جب کہ باقی اچھرہ میں حملے کا ہدف بننے والےگھرمیں رہائش پذیر تھے۔

طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں کو طالبان قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی سزاد دی گئی ہے۔

شدت پسند (فائل فوٹو)

شدت پسند (فائل فوٹو)

’’ہم طویل عرصے سے ان کی تلاش میں تھے کیونکہ جیل میں ہمارے لوگوں کے ساتھ ان کا رویہ غیر انسانی اور تضحیک آمیز تھا۔‘‘

پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل حاجی حبیب الرحمٰن نے جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ حملہ ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

’’میرا خیال ہے یہ اُسی کا شاخسانہ ہے اس لیے اب ہم حفاظتی اقدامات میں غیر معمولی اضافہ کرنے جارہے ہیں۔ دہشت گرد اگر میدان میں آئے ہیں تو ان کا مقابلہ تو کرنا ہوگا۔‘‘

آئی جی پولیس نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ حملہ آوروں کا تعلق اُنہی ’’دہشت گردوں‘‘ سے ہو جنہیں حال ہی میں داتا دربار کے احاطے سے گرفتار کیا گیا۔

پنجاب میں سکیورٹی اہلکاروں پر اس ہفتے یہ دوسرا مہلک حملہ ہے جس کی شدت پسند تحریک طالبان پاکستان نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید ایسی کارروائیاں کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

اس سے قبل پیر کی صبح نامعلوم مسلح افراد نے گجرات کے قریب ایک عارضی فوجی کیمپ پر حملہ کر کے چھ فوجیوں اور ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا تھا۔

انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی غیر جانبدار تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آرسی پی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خون ریزی اور بیہمانہ تشدد کی بڑھتی ہوئی یہ کارروائیاں تشدد پر قابو پانے اورمجرموں کو قرار واقعی سزا دینے میں ریاست کی مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتی ہیں۔



” ان تمام واقعات میں ایک چیز مشترک ہے، اول: حملہ آور کبھی گرفتار نہیں ہوئے جو انہیں اور دوسروں کو مزید شہہ دینے کا سبب بنتا ہے، کہ وہ اپنی کارروائیاں کسی روک ٹوک کے بغیر جاری رکھیں۔ دوم: سارا ملک تشدد کے رجحان سے مغلوب ہے۔ اس حد تک کہ اس حوالے سے بامعنی اور پر امن بات چیت معدوم یا ناپید ہوکر رہ گئی ہے۔ بذات خود اس تناظر میں پارلیمنٹ اور میڈیا میں جو بحث ہوئی ہے اس نے ملک میں بڑھتے ہوئے جنگجوآنہ رجحانات کو نظر انداز کردیا۔‘‘

تنظیم کی سربراہ زہرہ یوسف نے کہا ہے کہ کراچی میں تشدد کے واقعات روزمرہ کا معمول بن گئے ہیں مگر سندھ کے دارالحکومت میں ہر روز چھ یا سات افراد کی اموات انتظامیہ کی توجہ حاصل کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG