رسائی کے لنکس

نوشہرہ میں درگاہ کے باہر دھماکا، تین ہلاک

  • شمیم شاہد

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پولیس حکام کے مطابق نوشہرہ میں زیارت کاکا صاحب دربار کے داخلی دروازے سے کچھ فاصلے پر بم پہلے سے نصب کیا گیا تھا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع نوشہرہ میں بم دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق نوشہرہ میں زیارت کاکا صاحب دربار کے داخلی دروازے کے قریب بارودی مواد نصب کیا گیا تھا جس میں ریموٹ کنڑول سے دھماکا کیا گیا۔

زیادہ تر زخمی نوشہرہ ہی کے ضلعی اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ شدید زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی ہے۔

عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز عموماً لوگ درگاہوں کا رخ کرتے ہیں اور اتوار کو بھی مرد اور خواتین کی بڑی تعداد کاکا صاحب کی زیارت میں موجود تھی۔

اس سے قبل بھی صوبہ خیبر پختون خواہ کے مختلف علاقوں میں مزارات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جن میں پشتو زبان کے مشہور صوفی شاعر رحمٰن بابا کا مزار بھی شامل ہے جہاں تقریباً دو سال قبل دھماکا کیا گیا تھا جس سے مزار کا ایک بڑا حصہ منہدم ہو گیا تھا۔

وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا ہے کہ غیر قانونی موبائل سم شدت پسندوں کے ہاتھوں میں ایک بڑا ہتھیار بن چکی ہے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق بظاہر زیارت کاکا صاحب میں موبائل فون کے ذریعے ہی دھماکا کیا گیا۔

’’ٹیلی فون جو ہے یہ جرائم پیشہ عناصرکے ہاتھ خودکش بمبار سے بھی بڑا ہتھیار ہے۔ جتنی بھی ایسی کارروائیاں ہوتی ہیں ان سب کے پاس جو ہتھیار ہے وہ موبائل فون ہے۔‘‘

حکومت نے ممکنہ دہشت گردی کے خدشے کے باعث عید الاضحیٰ کے موقع پر پہلے دن ملک کے مختلف شہروں میں جزوی طور پر موبائل فون کی سہولت کچھ گھنٹوں کے لیے بند کی تھی۔

وزیر داخلہ رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث عیدالاضحیٰ کے پہلے دن دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
XS
SM
MD
LG