رسائی کے لنکس

”دہشت گرد افغان سرحد سے آکر حملے کر رہے ہیں"

  • شہناز نفیس

”دہشت گرد افغان سرحد سے آکر حملے کر رہے ہیں"

”دہشت گرد افغان سرحد سے آکر حملے کر رہے ہیں"

پاکستانی فوج نے باجوڑ کے اکثر اور مہمند ایجنسی کے تقریباََ 80 فیصد حصے بشمول بڑے آباد ی والے علاقے دہشت گردوں سے صاف کرا لیے تھے۔ لیکن جنر ل عباس کے بقول افغانستان کی جانب سے سرحد عبور کر کے پاکستانی علاقوں میں شدت پسندوں کے حملے پاکستانی فوج کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے الزام لگایا ہے کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود عسکریت پسندوں نے سرحد عبور کر کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ”دہشت گردانہ کارروائیاں“ شروع کردی ہیں جو سکیورٹی فورسز کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔

جمعہ کو وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے باجوڑ کے اکثر اور مہمند ایجنسی کے تقریباََ 80 فیصد حصے بشمول بڑے آباد ی والے علاقے دہشت گردوں سے صاف کرا لیے تھے۔ لیکن جنر ل عباس کے بقول افغانستان کی جانب سے سرحد عبور کر کے پاکستانی علاقوں میں شدت پسندوں کے حملے پاکستانی فوج کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

”ایک مہینہ پہلے ہمار ی دو بارڈر پوسٹوں ، شنکرائی اور گوراپرائی پر سرحد پارسے دہشت گردوں نے آکر حملہ کیا تھا اور پھر وہ واپس اُسی سرحد کی طرف چلے گئے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اپنے علاقے میں تو پاکستان دہشت گردوں کے خلاف دفاع بھی کر سکتاہے، انھیں پکڑا بھی جاسکتا ہے اور مار ا بھی جاسکتا ہے۔ لیکن خصوصاََمشرقی افغان صوبے کنڑ سے سرحد عبور کرکے کارروائیاں کرنے والے ان شدت پسندوں کے سرحد پار ٹھکانوں کے خلاف کارروائی پاکستان کی پہنچ سے باہر ہے ۔“

جنرل عباس نے کہا کہ اس سنگین مسئلے کے بارے میں پاکستان نے اتحادی وافغان فوجوں کو آگاہ کیا ہے تاکہ افغانستان کی جانب سرحد کی نگرانی کو سخت کرنے کے ساتھ ساتھ ان” دہشت گردوں“ کے خلاف
کارروائی کی جاسکے ۔

پاکستان کے اس الزام پر افغان یا نیٹو افواج کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر بھی طالبان اور ان کے اتحادیوں کے حملوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ جون کے مہینے میں غیر ملکی افواج کو پچھلے نو سالوں کے دوران سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ اس سال اب تک مجموعی طور پر 340 سے زائد نیٹو کے فوجی شدت پسندوں کے حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل عباس نے اس تاثر کو بھی رد کیا ہے کہ جمعہ کو مہمند ایجنسی میں ہونے والا خودکش حملہ یا پھر ملک کے دوسرے حصوں میں ایسی کارروائیاں طالبان شدت پسندوں کے دوبارہ منظم ہونے کی غمازی کرتی ہیں۔

” ہم نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان علاقوں میں دہشت گردوں کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا ہے۔ یہ ایک لمبی جنگ اور لمبی کارروائی ہے جس میں اس قسم کے انفرادی واقعات کے مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا“۔

XS
SM
MD
LG