رسائی کے لنکس

ضلعی پولیس افسر کے دفتر پر عسکریت پسندوں کا حملہ

  • شمیم شاہد

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی پولیس افسر کے دفتر پر حملہ کرنے والوں میں سے تین پولیس کی وردی میں ملبوس تھے۔ دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک جب کہ چاروں حملہ آور بھی مارے گئے

صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ضلعی پولیس افسر کے دفتر پر ہفتہ کو مشتبہ عسکریت پسندوں نے حملہ کیا جس میں دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔

حملے کے بعد شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ حملہ آوروں میں سے تین نے خود کو جسم سے بندھے بارودی مواد سے اڑا لیا جب کہ ایک کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا گیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حملہ آوروں میں سے تین نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی جب کہ ان کا چوتھا ساتھی سادہ لباس میں تھا۔ انھوں نے بتایا کہ حملہ پسپا کرنے کے بعد صورتحال پوری طرح سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

حکام نے بتایا کہ حملے کے وقت ضلعی پولیس افسر سہیل خالد اپنے دفتر میں موجود تھے لیکن وہ محفوظ رہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے قریب واقع ہے اور اس سے قبل بھی یہاں شدت پسند پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہے ہیں۔

یکم جنوری سے خیبر پختونخواہ اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور رواں سال کے پہلے مہینے میں اب تک ہونے والے واقعات میں ایک سو سے زائد لوگ مارے جاچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG