رسائی کے لنکس

صوبہ سندھ کے ضلع بے نظیر آباد میں ایک مسافر بس پر نا معلوم افراد کی فائرنگ سے کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

پولیس حکام کے مطابق مسافروں سے بھری یہ بس جمعہ کی صبح کراچی سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئی تھی مگر ابھی اس نے تین سو کلو میٹر کی مسافت ہی طے کی تھی کہ موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے اس پر حملہ کر دیا۔

بے نظیر آباد، جس کا پرانا نام نواب شاہ تھا، کے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پولیس سردار علی چانڈیو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حملہ آوروں کا ایک ساتھی مسافر بس میں بھی موجود تھا اور یہ منظم انداز میں کی گئی کارروائی تھی۔

’’موٹر سائیکل پر سوار چار بندے پہلے سے (قاضی احمد کے علاقے میں) کھڑے تھے اور جیسے ہی کوچ وہاں پہنچی تو انھوں نے بس کو روکا اور (ڈرائیور سے) کہا کہ ہمارا ایک بندہ اس میں سوار ہے جس سے ہم نے کاغذات لینے ہیں۔ جیسے ہی کوچ کھڑی ہوئی تو وہ چاروں بندے گاڑی کے اندر آ گئے اور فائرنگ شروع کر دی۔‘‘

ڈی ایس پی چانڈیو نے بتایا کہ مسافر بس پر یہ مہلک حملہ اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے کیوں کہ اندروں سندھ سے گزرنے والی مسافر بسوں پر ایسے مہلک حملوں کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

اُنھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مسافروں سے ملنے والی معلومات کے مطابق حملہ آور نے بس میں داخل ہوتے ہی کہا کہ سندھی مسافر نیچے اتر جائیں لیکن صرف گاڑی کا ڈرائیور ہی سندھ کا باسی تھا جسے باہر نکالنے کے بعد بس میں فائرنگ کی گئی۔

رواں ہفتے سندھ کی قوم پرست جماعتوں نےصوبے کی مبینہ تقسیم اور مہاجر صوبے کے مطالبے کے خلاف کراچی میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی تھی۔ جلوس میں شامل شرکا پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے۔

نواب شاہ میں مسافر بس پر حملے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ سندھی قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں کے قتل کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ سندھی قوم پرست رہنماؤں نے کراچی میں فائرنگ کے واقعے کا الزام متحدہ قومی موومنٹ پر عائد کیا تھا جو سندھ بالخصوص کراچی اور حیدر آباد میں آباد اردو بولنے والوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ لیکن ایم کیو ایم نے اس تردید کی تھی۔

صدر آصف علی زرداری نے بے نظیر آباد میں ہونے والے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکام کو اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG