رسائی کے لنکس

صحافیوں کی ایک نمائندہ تنظیم پی ایف یو جے کے عہدیدار امین یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صحافیوں پر تشدد اس ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے جو ان کے بقول سچائی کا سامنا کرنا نہیں چاہتی۔

اسلام آباد کے حساس ترین علاقے ریڈزون میں احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں متعدد صحافیوں کو بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور دن بھر مقامی ٹی وی چینلز پر صحافی برادری کے نمائندوں کے پولیس کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے مناظر دکھائے جاتے رہے۔

ان واقعات پر نہ صرف صحافی برادری بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید مذمت کی گئی۔

جھڑپوں کی کوریج کرنے والے مقامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو اپنی شناخت کروانے کے باوجود بھی اہلکاروں نے انھیں لاٹھیوں سے پیٹا جب کہ ان کے آلات بشمول کیمروں کو بھی نقصان پہنچایا۔

ٹی وی چینلز پر دکھائے گئے مناظر میں پولیس اہلکاروں کو بعض چینلز کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرتے بھی دکھایا گیا۔

ملک میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری امین یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صحافیوں پر تشدد اس ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے جو ان کے بقول سچائی کا سامنا کرنا نہیں چاہتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر صحافتی برادری پورے ملک میں احتجاج کرے گی۔

"ہم اس ذہنیت کے خلاف بھرپور لڑائی لڑتے رہے ہیں اور لڑتے رہیں گے نہ ہمارا قلم رکے گا اور نہ ہمارے کیمرہ رکے گا۔"

حکومت کی جانب سے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ صحافیوں کو اپنا کام آزادانہ طور پر کرنے کی اجازت ہے اور اس میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وفاقی وزیر سعد رفیق نے ریڈ زون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے خود پولیس والوں کو ٹی وی چینلز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچاتے ہوئے دیکھا اور وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہو۔

XS
SM
MD
LG