رسائی کے لنکس

شعیوں کے قتل کے بعد گلگت میں کشیدگی

  • اسلام آباد

حملے کا نشانہ بننے والوں کی تدفین اُن کے آبائی علاقوں میں کر دی گئی ہے۔ (فائل فوٹو)

حملے کا نشانہ بننے والوں کی تدفین اُن کے آبائی علاقوں میں کر دی گئی ہے۔ (فائل فوٹو)

بابو سر نامی دور دراز پہاڑی علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے کا نشانہ بننے والوں کی تدفین کے موقع پر گلگت، استور اور چلاس میں احتجاجاً کاروباری مراکز بند رہے۔

پاکستان کے شمالی حصے میں تازہ ’’دہشت گردانہ‘‘ حملے کے ایک روز بعد جمعہ کو گلگت بلتستان میں حالات عمومی طور پر پُرسکون مگر کشیدہ رہے۔

ضلع مانسہرہ کے بابو سر نامی دور دراز پہاڑی علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے کا نشانہ بننے والوں کی تدفین کے موقع پر گلگت، استور اور چلاس میں احتجاجاً کاروباری مراکز بند رہے۔

ان علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔

سکیورٹی اہلکاروں کی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد نے جمعرات کو تین بسوں میں سوار شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے 20 سے زائد افراد کو بسوں سے اتارنے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔ بیشتر مسافروں کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا اور وہ عید کی چھٹیاں گزارنے راولپنڈی سے اپنے آبائی گھروں کو جا رہے تھے۔

اس حملے کے عینی شاہد سعید عالم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 18 سال سے اس علاقے میں سیاحوں کی رہنمائی یا بطور گائیڈ کے کام کر رہے ہیں مگر اس سے قبل یہاں تشدد کی ایسی کسی وارادات کی مثال نہیں ملتی۔

’’آٹھ بج کر چار پانچ منٹ کا ٹائم تھا اور میں لولوسر سے بابو سر ٹاپ کی طرف جا رہا ہے۔ لولوسر سے تقریباً ڈیڑھ پونے دو کلومیٹر کے فاصلے پر کچھ باغیوں نے کافی گاڑیوں کو روک رکھا تھا اور پھر وہ ان میں سوار افراد کو مارنے لگے، لیکن ان میں کچھ بندے وہاں سے بھاگ نکلے، انھیں گولیاں بھی لگی ہوئی تھیں اور ایک جگہ میں نے دیکھا کہ ایک لاش بھی پڑی ہوئی تھی۔‘‘

سعید عالم نے بتایا کہ جس وقت شیعہ مسافروں کو فائرنگ کر ہلاک کیا جا رہا تھا وہ برطانیہ اور جاپان سے سیاحت کی غرض سے آنے والی دو خواتین کو کاغان اور ناران کی سیر کے لیے لے کر جا رہے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر بھی گولیاں برسائیں تاہم نا تو انھیں اور نا ہی دونوں غیر ملکی مہمانوں کو گزند پہنچا البتہ وہ دونوں بہت زیادہ خوفزدہ ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شیعہ مسلمانوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی عقائد کی بنا پر لوگوں کو ہلاک کرنا قابل مذمت ہے۔

اس سے قبل بھی گلگت جانے والی مسافر گاڑیوں میں سوار شیعہ افراد پر مہلک حملے ہو چکے ہیں اور رواں سال فروری میں چلاس کے مقام پر ایسے ہی ایک واقعے میں لگ بھگ 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ان واقعات کے بعد وفاقی وزارت داخلہ اور گلگت بلتستان انتظامیہ نے مسافر گاڑیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے منصوبے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن جس وقت یہ حملہ ہوا اس وقت ان گاڑیوں کی حفاظت پر کوئی اہلکار تعینات نہیں تھا۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے گلگت جانے والی مسافر گاڑیوں پر حملوں میں اضافے کے بعد اسلام آباد سے گلگت تک اضافی فضائی پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق ’ایچ آر سی پی‘ نے گلگت جانے والی بسوں میں سوار شعیہ مسلک کے افراد کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا کہ یہ واضح کیا جائے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کیا منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

ایچ آر سی پی نے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی ایک مرتبہ پھر گلگت بلتستان جانے والے شیعہ مسلمانوں کو ’بغیر کسی مشکل کے‘ نشانہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
XS
SM
MD
LG