رسائی کے لنکس

’فوجی کارروائی مسئلے کا حل نہیں‘

  • یاسر منصوری

کراچی میں رواں سال اب تک لگ بھگ 900 افراد پرتشدد واقعات کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔

کراچی میں رواں سال اب تک لگ بھگ 900 افراد پرتشدد واقعات کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں تشدد کی لہر پر قابو پانے کے لیے فوج بلانے کی ایک مرتبہ پھر مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’فوجی کارروائیاں مسائل کا حل نہیں ہوتیں‘‘۔

لاہور میں اتوار کو ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ فوج کا استعمال کرکے وقتی طور پر حالات سے نمٹا جا سکتا ہے لیکن یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ ’’اگر رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی استعداد کار کا بہترین استعمال کیا جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

البتہ وزیر اعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ فوج سے مدد لینے یا نا لینے کا فیصلہ صوبائی حکومت نے کرنا ہے۔ ’’ہم (وفاقی حکومت) اُن کی رہنمائی کر سکتے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دستیاب معلومات سے آگاہ کر سکتے ہیں، مگر حتمی فیصلے کا اختیار صوبائی حکومت ہی کو حاصل ہے۔‘‘

وزیراعظم نے یہ بیان پاکستان کے ایک بڑے انگریزی روزنامے کی اس خبر کے رد عمل میں دیا جس کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے درخواست کی صورت میں فوج کراچی میں جاری بدامنی کی لہر ہر قابو پانے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

اخبار ’دی نیوز‘ میں اتوار کو شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ جنرل کیانی نے کراچی کی موجودہ صورت حال پر ’’انتہائی تشویش‘‘ کا اظہار کیا۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی

جنرل اشفاق پرویز کیانی

فوج کے سربراہ سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’کراچی ملک کی شاہ رگ ہے اور اگر امن و امان کی صورتحال کو مزید بگڑنے دیا گیا تو یہ انتہائی نا انصافی ہو گی۔‘‘

البتہ جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ اگر کراچی پولیس اور نیم فوجی سکیورٹی فورس سندھ رینجرز کو موثر انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ ادارے ملک کے سب سے بڑے شہر میں امن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کے تجارتی مرکز میں گزشتہ پانچ روز سے جاری بدامنی کی تازہ لہر کے دوران اب تک کم از کم 80 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور بعض سیاسی جماعتوں کے علاوہ کراچی کی تاجر برادری نے بھی بحالی امن کے لیے شہر کا کنٹرول فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی میں خونریز بدامنی کی نا تھمنے والی یہ لہر ملک کی سیاسی قیادت کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے، لیکن حکمران پیپلز پارٹی کی طرف سے امن کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے دعوؤں کے باوجود امن و امان کی صورت حال پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

ہفتہ کو اسلام آباد اور کراچی میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت میں صدر آصف علی زرداری کی سربراہی میں سندھ حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کے وزرا ء کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کراچی کی تمام سیاسی قوتوں کی مدد سے شہر میں امن بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت پر بھی بات چیت کی گئی۔

کراچی میں جولائی کے اوائل میں شروع ہونے والے تشدد کے واقعات کی بظاہر وجہ شہر کی بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اور حکمران پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی اختلافات بتائی گئی تھی، تاہم بدامنی کی تازہ لہر کو کراچی میں سرگرم بھتہ خور اور جرائم پیشہ عناصر کے گروہوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ ان عناصر کے سیاسی جماعتوں سے گہرے روابط ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کراچی کی بڑی سیاسی جماعتیں ان جرائم پیشہ عناصر کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتی آئی ہیں لیکن ان جماعتوں کے رہنما یہ الزام مسترد کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG