رسائی کے لنکس

تیزاب سے حملوں کی روک تھام کے لیے قانون سازی میں پیش رفت

  • حسن سید

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات باعث تشویش ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات باعث تشویش ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ترقی نسواں نے اس ماہ مسودے کو حتمی شکل دے کر منظور کیا اور شہناز وزیر علی کا کہنا ہے کہ اسے آئندہ بجٹ اجلاس کے بعد منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ تیزاب سے حملوں کی روک تھام کے لیے حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے جس قانون کا مسودہ منظور کیا ہے وہ نا صرف اس بھیانک جرم کے تدارک میں مددگار ثابت ہو گا بلکہ اس کے تحت مجرم اور شریک جرم دونوں ہی کو کڑی سزائیں دی جا سکیں گی۔

جماعت کی سینیئر رکن اور ممبر قومی اسمبلی شہناز وزیر علی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قوانین تیزاب پھینکے جانے کے جرم کے خلاف ناکافی اور غیر موثر ہیں کیونکہ اکثر واقعات میں کسی عورت پر تیزاب پھینکنے والا اسی کے گھر یا خاندان کا کوئی فرد ہوتا ہے جس کے خلاف مظلوم عورت دباؤ کے تحت آواز نہیں اٹھا سکتی۔

شہناز وزیر علی نے بتایا کہ مجوزہ قانون کے تحت ریاست اس بات کی پابند ہوگی کہ وہ خود مجرم یا مجرمان کے خلاف استغاثہ بنے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اُنھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

پاکستان میں تیزاب سے حملے عورتوں پر تشدد کی ایک سنگین صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں جس کی وجہ ناقدین کے مطابق موثر قانون کی عدم موجودگی کے ساتھ ساتھ بازاروں میں تیزاب کی با آسانی دستیابی بھی ہے۔

غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق 2008 ء سے 2010ء کے درمیان عورتوں پر تیزاب پھینکے جانے کے 114 واقعات درج کیے گئے۔

حکمران جماعت کی ممبر نے کہا کہ مجوزہ قانون صرف تیزاب پھینکنے والوں کو ہی گرفت میں نہیں لاتا بلکہ اس میں موجود شقیں تیزاب کی فروخت کو بھی قانون کے تابع لائیں گی جس کے بعد یہ خطرناک مواد کھلے عام دستیاب نہیں ہو گا۔

”تیزاب کی خرید و فروخت کی با قاعدہ تحریری شہادتیں رکھنا لازمی ہوگا تاکہ یہ معلوم ہوکہ کس فرد نے تیزاب کہاں سے اور کس مقصد کے لیے خریدا۔“

انھوں نے بتایا کہ بل میں تجویز کردہ سزاؤں کے تحت مجرم کو جرم کی سنگینی کے مطابق جرمانے کے علاوہ دس سے پندرہ سال قید کی سزا بھی سنائی جا سکے گی۔

تیزاب پھینکے جانے کے خلاف قانون کا مسودہ گذشتہ تقریباً دو سال تک زیر غور رہا ہے جس دوران شہری حقوق کی غیر سرکاری تنظیموں سے بھی مشاورت کی گئی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ترقی نسواں نے اس ماہ مسودے کو حتمی شکل دے کر منظور کیا اور شہناز وزیر علی کا کہنا ہے کہ اسے آئندہ بجٹ اجلاس کے بعد منظوری کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ”تیزاب پھینکنے کے خلاف قانون ایک نہایت اہم قدم اور عورتوں کے حقوق کے عین مطابق ہوگا“۔

XS
SM
MD
LG