رسائی کے لنکس

پاکستانی صحافیوں کے قتل و اغواء کی تحقیقات کا مطالبہ


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

انسانی حقوق کی علمبردار ایک بڑی تنظیم نے حالیہ دنوں میں پاکستان میں دو صحافیوں کے قتل اور اغواء کے الگ الگ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں صحافیوں کے تحفظ اور اُن کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے خضدار میں ایک مقامی صحافی منیر شاکر کے قتل پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران بلوچستان کے اس ضلع میں چار صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مقامی نیوز ایجنسی آن لائن نیوز انٹرنیشنل کے نمائندے منیر شاکر کو موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے اُس وقت حملہ کر کے ہلا ک کردیا جب وہ اسپتال میں ایک مریض کی عیادت کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔

ایچ آر سی پی نے 11 اگست کو شمالی وزیرستان کے انتظامی مرکز میران شاہ میں مقامی صحافی رحمت اللہ درپہ خیل کے اغواء پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ”یہ بات انتہائی قابل تشویش ہے کہ صحافیوں کے خلاف تشدد میں اضافے بشمول کئی قتل کے واقعات کے باوجود حکومت نے اُن کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے ہیں۔“

شمالی وزیرستان میں کسی صحافی کے اغواء کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل دسمبر 2005ء میں صحافی حیات اللہ کو میر علی میں اُن کے گھر سے اغواء کر لیا گیا تھا اور چھ ماہ بعد اُس کی تشدد زدہ لاش سڑک کے کنارے ملی تھی۔

ایچ آر سی پی نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ منیر شاکر کے قاتلوں کی شناخت کرکے اُنھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ”ایک اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ رحمت اللہ کے اغواء کا بھی وہی افسوس ناک انجام نہ ہو جو صحافی حیات اللہ خان کا ہواتھا۔“

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے کیونکہ دیگر صحافیوں پر ہونے والے حملوں کو وہ اپنے لیے ایک انتباہ سمجھ رہے ہیں۔ ”شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد صحافی، جو ٹرائیبل یونین آف جنرنلسٹس کے رکن بھی ہیں، اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ اس پیشے کو خیر آباد کہنے پر غور کر رہے ہیں۔“

تنظیم کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں صحافیوں کے قتل اورپیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانے کے دوران اُن کے خلاف تشدد کے دیگر واقعات میں تیز ی سے اضافے کا تعلق براہ راست اس حقیقت سے ہے کہ ان تمام واقعات میں ملوث مجرموں کی نا تو شناخت اور نا ہی اُنھیں سزا مل سکی ہے۔

XS
SM
MD
LG