رسائی کے لنکس

پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو ہلاک کرنے والوں کی تلاش


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس نے اتوار کی صبح بھی ضلع جہلم میں اُن مشتبہ عسکریت پسندوں کی تلاش کی جنھوں نے ایک روز قبل فوج کے خفیہ ادارے کے اہلکاروں سمیت پانچ افراد کو ہلاک کر دیا تھا، لیکن باضابطہ طور پر کسی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پنجاب پولیس کی بھاری نفری نے ہفتہ کو جہلم کی پنڈ دادن خان تحصیل کے پہاڑی علاقے پیر چمبل کو گھیرے میں لے کر ملڑی انٹیلی جنس کے اُن چار اہلکاروں اور ایک سولین کی تلاش کا سلسلہ شروع کیا تھا جن کو بظاہر جمعہ کو اس ہی علاقے سے اغواء کر لیا گیا تھا۔

اس کارروائی کے دوران پولیس کو پانچوں مغوی افراد، جن میں ایک میجر عہدے کے افسر بھی شامل تھے، کی لاشیں ملیں جنھیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق یہ افراد کالعدم انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے ڈاکٹر ارشد نامی ایک کمانڈر کی تلاش میں اس علاقے میں آئے تھے لیکن اُنھیں وہاں موجود تنظیم کے کارکنوں نے اغواء کر لیا تھا۔ کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

فوج یا پولیس کی طرف سے اس واقعہ کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG