رسائی کے لنکس

’کراچی میں قتل وغارت کی ذمہ دار پی پی پی‘

  • شمیم شاہد

’کراچی میں قتل وغارت کی ذمہ دار پی پی پی‘

’کراچی میں قتل وغارت کی ذمہ دار پی پی پی‘

حکمران پیپلز پارٹی کی ایک اہم حلیف جماعت، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، نے کراچی اور حیدرآباد میں کمشنری نظام کو ختم کرکے ایک بار پھر بلدیاتی نظام کی بحالی کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اِسے صوبہ سندھ میں ’’آدھا تیتر آدھا بٹیر کا نظام‘‘ اور ’’پی پی پی کا ڈرامہ‘‘ قرار دیا ہے۔

اے این پی کے ایک مرکزی رہنما سینیٹر زاہد حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی پی پی نے راتوں رات صدارتی حکم نامے کے تحت سندھ میں کمشنری نظام کو یہ کہہ کر بحال کیا تھا کہ فوجی آمر پرویز مشرف کے تخلیق کردہ مقامی حکومتوں کے نظام نے کراچی اور حیدر آباد کا حلیہ بگاڑ دیا تھا لیکن اب ایک بار پھر اُسی نظام کو راتوں رات بحال کردیا گیا ہے۔

’’اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ پیپلز پارٹی کا ایک ڈرامہ تھا کیونکہ اگر وہ اپنے فیصلے پر ثابت قدم نہیں رہ سکتی تو اُسے پہلے ہی ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اُس وقت اس (کمشنری نظام کی بحالی) کی وجہ سے کراچی میں جو قتل وغارت اور تباہی ہوئی اُس کی ذمہ دار بھی پیپلز پارٹی ہے۔ کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ پی پی پی کی حکومت کیا کر رہی ہے، کیا چاہتی ہے اور اس کے مشیران کون ہیں۔‘‘

زاہد خان نے کہا کہ نہ تو کمشنری نظام کی 9 جولائی کو بحالی کے وقت حکمران پیپلز پارٹی نے اے این پی سے مشاورت کی تھی اور نہ ہی اب ایک بار پھر بلدیاتی نظام کی بحالی پر اُن کی جماعت کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔

اُن کے بقول ایم کیو ایم تو کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی نظام کی بحالی پر خوش ہے لیکن سندھ میں قوم پرست اور حزب اختلاف کی جماعتیں پیپلز پارٹی کے اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔

’’کیونکہ یہ بات بہت عجیب ہے کہ دو شہروں میں آپ ایک نظام چلا رہے ہوں اور باقی سندھ میں کوئی اور نظام چلا رہے ہوں تو یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والی بات ہے۔‘‘

سندھ کے گورنر عشرت العباد نے پیپلز پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے بعد ہفتہ کی شب دیر گئے دو حکم ناموں پر دستخط کیے جن کے تحت کراچی اور حیدرآباد کو دوبارہ ضلع کا درجہ دے کر یہاں کمشنری نظام کی جگہ بلدیاتی نظام بحال کر دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق کراچی میں بلدیاتی نظام کی بحالی کو ایم کیو ایم کے مطالبات میں نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ متحدہ قومی موومنٹ نے جون کے اواخر میں سیاسی اختلافات کی بنا پر پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

اس پیش رفت کے چند روز بعد ہی کراچی میں خونریز بدامنی کی ایک نا تھمنے والی لہر کا آغاز ہوا جس میں حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق صرف جولائی میں تقریباً 300 افراد سیاسی و لسانی بنیادوں پر ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان تناؤ میں کمی کو ناقدین کراچی میں قیام امن کے لیے خوش آئند قرار دے رہے ہیں، لیکن اُن کا کہنا ہے کہ بظاہر شہر میں تشدد کو روکنے کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات کتنے موثر ثابت ہوں گے، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

XS
SM
MD
LG