رسائی کے لنکس

اے این پی کے رہنما پر قاتلانہ حملے میں 2 ہلاک

  • شمیم شاہد

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

صوبہ خیبر پختون خواہ میں حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ضلع کوہاٹ کے صدر سعید شاہ بخاری بدھ کی شام ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ سعید شاہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پارٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے جب مسلح افراد نے شیخان نامی گاؤں کے قریب اُن کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

اس حملے میں دو افراد موقع پر ہلاک اور سعید شاہ سمیت چار افراد زخمی ہو گئے۔ سعید شاہ کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اپستال منتقل کر دیا گیا، جہاں اُن کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

سعید شاہ بخاری اے این پی ہی کی رکن قومی اسمبلی خورشید بیگم کے شوہر ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران صوبہ خیبر پختون خواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشنز کی بھرپور حمایت کرنے والی اس سیاسی جماعت کے دو اراکین پارلیمان سمیت 400 سے زائد عہدے دار پُر تشدد واقعات میں مارے جا چکے ہیں۔

دریں اثنا بدھ کو صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس میں بنوں جیل پر طالبان شدت پسندوں کے حملے اور 21 خطرناک مجرمان سمیت 380 سے زائد قیدیوں کے فرار کے سلسلے میں بنوں اور شمالی وزیرستان کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے اُن کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

میاں افتخار حسین

میاں افتخار حسین

کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ تمام ذمہ داران کو فوری طور پر اُن کے عہدوں سے معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

’’ہم ایسے اقدامات کرنا چاہتے ہیں کہ اگر یہ افراد اپنے دفاع میں متعلقہ اداروں سے رجوع کریں تو ابتدا میں ہم سے ایسی کوئی غلطی نا ہو جس کی وجہ سے ہمارے اقدام کو جائز قرار نا دیا جائے۔‘‘

معطل کیے جانے والوں میں بنوں کے سابق کمشنر اور ضلعی رابطہ افسر کے علاوہ پولیس، فرنٹیئر کانسٹبلری اور محکمہ جیل خانہ جات کے اعلیٰ عہدے داران بھی شامل ہیں۔

بنوں جیل پر گزشتہ ماہ ہونے والے حملے کے نتیجے میں وہاں سے فرار ہونے والوں میں سابق صدر پرویز مشرف پر ناکام قاتلانہ حملے کے جرم میں موت کی سزا پانے والا عدنان رشید نامی شدت پسند سر فہرست تھا۔

طالبان عسکریت پسندوں نے منگل کو اس حملے کی ویڈیو فلم بھی جاری کر دی تھی۔

XS
SM
MD
LG