رسائی کے لنکس

کوئٹہ: بس حملے میں 14 افراد ہلاک

  • ستار کاکڑ

کوئٹہ: بس حملے میں 14 افراد ہلاک

کوئٹہ: بس حملے میں 14 افراد ہلاک

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کی صبح شیعہ برادری پر نامعلوم افراد کے حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس حامد شکیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ واقعہ کوئٹہ کے مضافاتی علاقے اختر آباد میں پیش آیا جہاں گاڑی پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ایک بس کو روک کر اس میں موجود مسافروں کو پہلے زبردستی نیچے اتارا اور پھر ان پر خود کار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

ڈی آئی جی حامد شکیل نے کہا ’’ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق (شیعہ) ہزارہ برادری سے ہے اور یہ لوگ کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں قائم سبزی منڈی جا رہے تھے۔‘‘

عینی شاہدین کے مطابق اس واقعہ میں 12 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کہ زخمیوں میں سے کچھ نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

ہلاک و زخمی ہونے والے افراد کو حملے کا نشانہ بننے والی بس میں ہی کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا جہاں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور بس کو نذر آتش کر دیا۔

مشتعل افراد نے بعد میں کوئٹہ شہر کی مرکزی شاہراہ پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دیں جس سے ٹریفک کا نظام عارضی طور پر معطل ہو گیا۔ مظاہرین نے صوبہ میں تشدد کے واقعات روکنے میں ناکامی پر صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری فوری طور پر قبول نہیں کی ہے لیکن بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں اور سنی انتہاپسند ماضی میں شیعہ برادری کو پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

کوئٹہ: بس حملے میں 14 افراد ہلاک

کوئٹہ: بس حملے میں 14 افراد ہلاک

گزشتہ ماہ پاک ایران سرحد کی جانب سفر کرنے والے شیعہ زائرین کو ضلع مستونگ میں نشانہ بنایا گیا تھا اور اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے 20 ستمبر کے واقعے کے محرکات اور حقائق جاننے کے لیے ازخود نوٹس لیا تھا اور منگل کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ کے چیف جٹس نے مقامی اخبارات اور ٹی وی چینلز کو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث کالعدم تنظیموں کے بیانات شائع نہ کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف قانون و آئین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

دریں اثنا صوبہ بلوچستان سے اغوا کیے گئے امریکہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے آٹھ پاکستانی کارکنوں کو پشاور میں رہا کر دیا گیا ہے۔

مقامی حکام نے واقعہ کی حساس نوعیت کے باعث نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر مغویوں کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امدادی تنظیم امریکن ریفیوجیز کمیٹی کے مقامی کارکنوں کو ضلع پشین سے اغواء کے بعد قبائلی علاقے منتقل کر دیا گیا تھا۔ اغوا کی ذمہ داری بعد میں تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

اغوا کی واردات 19 جولائی کو اس وقت پیش آئی جب یہ ملازمین افغان مہاجرین کے لیے ضلع پشین میں قائم ایک کیمپ میں امدادی سامان اور خوراک تقسیم کرنے کے بعد واپس کوئٹہ آ رہے تھے۔

امریکی امدادی تنظیم افغان پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی تنظیم یو این ایچ سی آر کی مدد سے کوئٹہ سے تقریباَ 50 کلو میٹر دور سرخاب روڈ پر واقع مہاجر کیمپ میں ایک ہسپتال بھی چلانے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کی تربیت بھی فراہم کر رہی تھی۔

جولائی میں ہی ضلع لورالائی کے علاقے سے سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک سیاحتی جوڑے کو بھی اغواء کیا گیا تھا جنھیں تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔

XS
SM
MD
LG