رسائی کے لنکس

مہمند ایجنسی: قاضی حسین احمد کے قافلے کے قریب خودکش حملہ


قاضی حسین احمد (فائل فوٹو)

قاضی حسین احمد (فائل فوٹو)

سابق امیر جماعت اسلامی کا قافلہ جیسے ہی ایجنسی کے انتظامی مرکز غلنئی کے مصروف بازار میں پہنچا تو ایک برقع پوش خودکش بمبار خاتون نے اپنے جسم سے بندھے بارود میں دھماکا کردیا۔

پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں ایک خاتون خود کش حملہ آور نے پیر کو جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کے قافلے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے چار افراد زخمی ہو گئے۔

قافلے میں شامل کارکنوں کے مطابق حملے میں قاضی حسین احمد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا کیونکہ خودکش بمبار ان تک پہنچنے میں ناکام رہی۔

مقامی حکام نے بتایا ہے کہ قاضی حسین احمد ایک جلسہ عام سے خطاب کے لیے جا رہے تھے اور جب ان کا قافلہ خطے کے انتظامی مرکز غلنئی کے ایک مصروف چوک سے گزر رہا تھا تو ایک برقع پوش خاتون خودکش بمبار نے پیدل چلتے ہوئے ایک گاڑی کے قریب اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

قاضی حسین کے قافلے پر خودکش حملے کے چند گھنٹوں بعد خیبر پختون خواہ کی اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ انتہا پسندوں کی ایسی کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا ہدف کوئی پارٹی یا شخص نہیں بلکہ پاکستان ہے۔

’’یہ سوچ ایسی مختلف سوچ ہے … جس کے دنیا پر تو (منفی) اثرات ہوں گے مگر پہلے اس کے پاکستان پر (اثرات) ہوں گے اور ہم نے اپنے پاکستان کو بچانا ہے۔‘‘

اس حملے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ لیکن تحریک طالبان کے مفرور کمانڈر حکیم اللہ محسود نے ایک حالیہ بیان میں قاضی حسین پر پیپلز پارٹی کی حکومت کی حمایت کرنے پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

جماعت اسلامی فاٹا میں خاصی مقبول ہے لیکن حالیہ چند سالوں میں ان قبائلی علاقوں میں امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث سیاسی سرگرمیاں تقریباً ختم ہوچکی ہیں اور ایک طویل عرصے کے بعد جماعت اسلامی کے سابق امیر مہمند ایجنسی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرنے جارہے تھے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG