رسائی کے لنکس

حساس تنصیبات پر مسلسل حملے قانون سازوں کے لیے باعث تشویش


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

ماہرین کا کہنا ہے کہ حملوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شدت پسندوں کا نیٹ ورک ابھی بھی موثر اور فعال ہے اور وہ ایسی حساس تنصیبات تک رسائی کی اہلیت رکھتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چار روز کے دوران پاک فضائیہ کی تنصیبات اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے ایک مصروف بازار میں کار بم دھماکے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شدت پسندوں کا نیٹ ورک ابھی بھی موثر اور فعال ہے اور وہ ایسی حساس تنصیبات تک رسائی کی اہلیت رکھتے ہیں۔

انہی خدشات پر برہمی کا اظہار منگل کے روز اراکین پارلیمنٹ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ بھرپور کارروائی کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کالعدم تنظیموں اور غیر شدت پسندوں کے درمیان گٹھ جوڑ پر نہ صرف وفاقی بلکہ صوبائی حکومتوں کو سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے ایک لائحہ عمل بنانا ہوگا کیونکہ یہ پاکستان کی آئندہ آنے والی نسل کے لیے خطرہ ہے۔

وفاقی وزیر برائے تعلیم و تربیت شیخ وقاص اکرم نے پارلیمان کو بتایا کہ انہوں نے خود عسکریت پسند تنظیم اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے اراکین کو صوبہ پنجاب میں گومتے پھرتے دیکھا ہے اور اس پر فوری کارروائی کی جائے اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔

’’یہ ایک بڑی سازش ہے کہ ازبک شدت پسند پورے افغانستان سے گزرتے ہوئے پاکستان آتے ہیں اور یہاں وہ کون سی تنظیمیں ہیں جو انہیں 30 سے 40 ہزار ڈالر فی کس ادا کرتی ہے۔‘‘

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے پشاور شہر میں ہوائی اڈے پر حملے میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے عسکریت پسند بھی تھے اور اس کارروائی میں شدت پسندوں نے روسی ساختہ ہتھیار بھی استعمال کیے۔

پنجاب حکومت پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ان کالعدم شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی جو کہ القاعدہ سے منسلک ہیں اور ملک میں فرقہ واریت اور دیگر پر تشدد کارروائی میں ملوث ہیں۔ لیکن پنجاب حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

شیخ وقاص نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اکثر کردار صرف بیانات تک ہی محدود رہا ہے۔

’’وزیر داخلہ کے بیانات پر عمل بھی ہونا چاہیئے۔ مجھے پتہ ہے۔ میں بتا دونگا۔ یہ بے کار باتیں ہیں جب تک اس پر کارروائی نہ ہو۔ آپ پکڑیں جو انہیں پناہ دیتے ہیں اور کارروائی کریں جیسے آپ ڈاکوؤں اور چوروں کے خلاف کرتے ہیں۔‘‘

پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے اور اب تک 40 ہزار لوگ اس جنگ کی نذر ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ سے متعلق سیاسی جماعتوں میں عدم اتفاق شدت پسندوں کے لیے فائدہ مند ہے جبکہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
XS
SM
MD
LG