رسائی کے لنکس

پولیس کے مطابق یہ دھماکا اُس وقت ہوا جب بچے دینی مدرسے کے ایک کمرے میں درس لے رہے تھے۔

پاکستان کے ساحلی شہر میں ایک دینی مدرسہ میں پیر کو ایک دھماکے سے کم از کم تین طالب علم ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔

یہ واقعہ شہر کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں پیش آیا۔

دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جنہیں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ بم دھماکا اُس وقت ہوا جب بچے دینی مدرسے کے ایک کمرے میں درس لے رہے تھے۔

تاہم حکام کے مطابق یہ واضح نہیں کہ اُنھیں پہلے سے نصب بم سے نشانہ بنایا گیا یا کہ باہر سے دستی بم پھینکا۔

پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے، کیوں کہ عہدیدار اس شبے کا اظہار کر رہے ہیں کہ بظاہر مدرسے کے اندر باہر سے بم پھینکنے ممکن نہیں کیوں کہ چاروں جانب سے عمارت یا تو بند ہے یا پھر جالی لگی ہوئی ہے۔

اس لیے یہ شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکا خیز مواد مدرسے کے اندر ہی ہو سکتا ہے، لیکن اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ، سید قائم علی شاہ نے گزشتہ روز امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کراچی پولیس کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں تیزی لانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

واضح رہے کہ کراچی کے علاقے گزری میں گزشتہ جمعہ کی صبح ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم چھ افراد ہلاک جب کہ 25 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
XS
SM
MD
LG