رسائی کے لنکس

ڈیرہ اسماعیل خان: تشدد کے واقعات میں سیاسی رہنما سمیت تین ہلاک

  • شمیم شاہد

تحصیل کولاچی میں مڈی روڈ پر دیسی ساختہ بم دھماکے میں مقامی سیاسی رہنما فقیر جمشید اور ان کا ڈرائیور ہلاک ہو گئے۔

پاکستان کے شمال مغرب میں پیر کی صبح تشدد کے دو مختلف واقعات میں ایک مقامی سیاسی و روحانی شخصیت سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے۔

جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کولاچی میں مڈی روڈ پر دیسی ساختہ بم کے دھماکے میں مقامی سیاسی و روحانی شخصیت فقیر جمشید اور ان کا ڈرائیور ہلاک ہو گئے۔

ضلعی پولیس افسر صادق بلوچ نے وائس آف امریکہ کو اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "فقیر جمشید اپنے ایک مرید کے ساتھ اپنے آبائی علاقے کی طرف جا رہے تھے کہ سڑک میں نامعلوم افراد کی طرف سے نصب دیسی ساختہ بم میں ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کر کے انھیں نشانہ بنایا گیا۔"

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے لیے تقریباً 15 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا اور اس کی زد میں آنے والی فقیر جمشید کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

صادق بلوچ کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

تاحال اس واقعے کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

فقیر جمشید گزشتہ سال قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں اُمیدوار تھے لیکن انھیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔

صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے اس بم حملے کی مذمت کی ہے۔

دریں اثناء ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابند روڈ پر ایک مسافر وین پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر یہ دہشت گردی کا واقعہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس کی مزید تفصیلات تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گی۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جون کے وسط سے پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ فوجی آپریشن کے بعد قبائلی علاقوں سے ملحقہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں تشدد کے مختلف واقعات دیکھنے میں آ چکے ہیں۔

حکام اور مبصرین ان واقعات کو فوجی آپریشن کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG