رسائی کے لنکس

کراچی: فوج کے بغیر ووٹر لسٹوں کی تصدیق پر احتجاج

  • کراچی

بدھ کے روز مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، عوامی لیگ، تحریک انصاف، سنی تحریک اور جے یو آئی فضل الرحمن نے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے سامنے شدید احتجاج کیا

کراچی میں گھر گھر انتخابی فہرستوں کی تصدیق میں فوج کو شامل نہ کرنے کے خلاف اپوزیشن جماعتیں سراپا احتجاج بن گئی ہیں۔

بدھ کو مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، عوامی لیگ، تحریک انصاف، سنی تحریک اور جے یو آئی فضل الرحمن نے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے سامنے شدید احتجاج کیا اور دھمکی دی کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ووٹرز کی گھر گھر تصدیق کے عمل میں فوج کو شامل نہ کیا گیا تو 26 جنوری سے الیکشن کمیشن کے خلاف بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔

اپوزیشن جماعتوں کا یہ احتجاج الیکشن کمیشن کے سربراہ فخر الدین جی ابراہیم کے اس بیان کا رد عمل ہے جس میں انہوں نے کہا کہ تھا کہ گھر گھر جا کر ووٹر لسٹوں کی تصدیق ایک مشکل کام ہے۔ لیکن، عدالتی احکامات کے مطابق کام مکمل کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول کراچی میں نئی انتخابی فہرستوں کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں اور امن وامان کا بھی کوئی مسئلہ نہیں اس لئے فوج کی مدد نہیں لی جا رہی۔

پانچ دسمبر 2012ء کو سپریم کورٹ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ 10جنوری کو یہ عمل شروع ہواتھا جس کے لئے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں تھیں جبکہ یہ سلسلہ یکم فروری تک جاری رہے گا۔

احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ نےفوج کے ذریعے تصدیق کا حکم دیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے اس کی حکم عدولی کی ہے جو انہیں منظور نہیں۔ مسلم لیگ ن سندھ کے رہنما سلیم ضیا کے بقول الیکشن کمیشن کا یہ اقدام کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت تصدیق کےعمل سے مطمئن نہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نادراکمل لغاری کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں پر سندھ کی دو جماعتوں (پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم ) کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں ایک طرف ہیں۔

احتجاج کرنے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو26 جنوری سے28 جنوری تک الیکشن کمیشن سندھ کے سامنے تین روزہ احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔اپوزیشن جماعت کے ایک رہنما نے نام نہ لینے کی شرط پر یہ بھی بتایا کہ اس حوالے سے جلدسپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG