رسائی کے لنکس

سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کی مکمل تفصیلات کا انتظار ہے: سرتاج عزیز

  • عشرت سلیم

سرتاج عزیز

سرتاج عزیز

سینیٹ کے چیئر مین رضا ربانی نے اس بات پر اعتراض کیا کہ حکومت نے پارلیمان سے مشورہ کیے بغیر ہی اتحاد میں شرکت کا فیصلہ کر لیا اور بظاہر خود بھی اپنے کردار کے بارے میں واضح نہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی قیادت میں بنائے گئے دہشت گردی کے خلاف اسلامی ممالک کے اتحاد کی مکمل تفصیلات سے آگاہ نہیں۔

منگل کو پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ایک رکن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اتحاد میں پاکستان کے کردار پر مشاورت ابھی جاری ہے اور پارلیمان میں قبل از وقت بحث سے اس معاملے کو مزید پیچیدہ نہ بنایا جائے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ اتحاد میں شریک ہر ملک اپنے کردار کا تعین کرے گا۔ ان کا کہنا تھا پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے اور دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ سرتاج عزیز نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے ابھی اس اتحاد کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

سینیٹ کے چیئر مین رضا ربانی نے اس بات پر اعتراض کیا کہ حکومت نے پارلیمان سے مشورہ کیے بغیر ہی اتحاد میں شرکت کا فیصلہ کر لیا اور بظاہر خود بھی اپنے کردار کے بارے میں واضح نہیں۔

تاہم معروف تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسا کوئی آئینی تقاضا موجود نہیں کہ کسی اتحاد میں حصہ بننے کے لیے پہلے پارلیمان سے منظوری لی جائے۔

’’پاکستان میں ایسا کوئی آئیں تقاضہ نہیں ہے کہ کسی اتحاد میں شامل ہونے کے لیے حکومت کو پارلیمان سے منظوری کی ضرورت ہو۔ ہاں، سیاسی طور پر یہی کیا جاتا ہے کہ پارلیمان کو بتا دیا جاتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ پارلیمان کے سامنے وضاحت کی جا سکتی ہے۔‘‘

حسن عسکری کا ماننا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی خبروں کے مطابق بظاہر سعودی حکومت نے اتحاد کے اعلان سے قبل پاکستان سے مشاورت نہیں کی اور نہ ہی اسے مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا جس کے باعث حکومت پارلیمان کو معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

حسن عسکری نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب سے قریبی تعلقات چاہتا ہے مگر وہ سعودی عرب کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتا خواہ اور یمن کا معاملہ ہو، ایران سے تعلقات ہوں یا داعش سے جنگ۔

’’پاکستان کے لیے یہ توازن رکھنا کافی مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک طرف سعودی عرب سے دوستی بھی رہے، تعلقات بھی چلتے رہیں، دوسری طرف پاکستان اس بات سے پرہیز کرے کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے مقاصد کر پاکستان کے مقاصد نہ سمجھا جائے۔ اسی وجہ سے فوجی اتحاد کے معاملے پر پاکستان کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کر رہا۔‘‘

گزشتہ ہفتے دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا تھا کہ پاکستان 34 رکنی اتحاد کا خیر مقدم کرتا ہے اور اس میں شریک ہو گا۔ لیکن اُن کا بھی کہنا تھا کہ یہ طے کیا جانا ابھی باقی ہے کہ پاکستان کی شمولیت کس سطح کی ہو گی۔

XS
SM
MD
LG