رسائی کے لنکس

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی میں بھتہ خوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکمران اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی حیدرعباس رضوی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے بار صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کی کارروائی میں اُس وقت تک دوبارہ حصہ نہیں لیا جائے گا جب تک کراچی کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

’’اگر صورتحال کا فی الفور نوٹس نہ لیا گیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آئندہ ہونے والے جوائنٹ سیشن (مشترکہ اجلاس) کا بھی ہمیں بائیکاٹ کرنا پڑے۔‘‘

پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس پیر کو طلب کیا گیا ہے جس سے صدر آسف علی زرداری اپنا رسمی خطاب کریں گے۔

حیدرعباس رضوی نے کہا کہ بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے کراچی کی تاجر برادری اور کاروباری حلقے عدم تحفظ کا شکار ہیں اور وہ شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ کراچی میں واقع پاکستان کی سب سے بڑی کباڑ مارکیٹ شیرشاہ میں 6,000 سے زائد دکانوں کے مالکان سے روزانہ چھ لاکھ روپے کا بھتہ اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ اُن کے بقول سنگ مرمر کی صنعت سے وابستہ افراد نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

’’کراچی کی اقتصادی صورتحال خراب ہو رہی ہے اگر کراچی کو نقصان پہنچتا ہے تو یہ پورے پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے ... ہم مطالبہ کرتے ہیں صدر پاکستان، وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ، سندھ کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ سندھ سے کہ وہ فی الفور نوٹس لیں۔‘‘

حیدر عباس رضوی نے بظاہر حکمران پیپلز پارٹی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ صورت حال میں بہتری لانے کے لیے ہدایات تو جاری کی جاتی ہیں لیکن ان پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔

لیکن ناقدین کے لیے ایم کیو ایم کے کا احتجاج اور حکومت پر اُس کی تنقید تعجب کا باعث ہے کیوں کہ متحدہ قومی موومنٹ نا صرف صوبہ سندھ بلکہ مرکز میں بھی پیپلز پارٹی کی ایک اہم اتحادی ہے۔

مزید برآں سیاسی مخالفین کے علاوہ خود حکمران پیپلز پارٹی کے بعض رہنما بھی ایم کیو ایم کے کارکنان پر شہر میں بھتہ خوری سمیت مختلف جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، جس کی ایم کیو ایم تردید کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG