رسائی کے لنکس

افغان پناہ گزینوں کی جلد واپسی چاہتے ہیں: ممنون حسین

  • عشرت سلیم

پشاور کے نزدیگ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ایک رجسٹریشن مرکز کے باہر تصویر۔

پشاور کے نزدیگ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ایک رجسٹریشن مرکز کے باہر تصویر۔

حالیہ مہینوں میں پاکستانی حکام کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ کچھ افغان پناہ گزینوں کی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ اُن کا ملک افغان مہاجرین کی جلد افغانستان واپسی چاہتا ہے۔ یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی سے اسلام آباد میں بدھ کو ملاقات میں کہی۔

ممنون حسین نے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی پاکستان کی طرف سے علاقے میں دیرپا امن اور ترقی کی کوششوں کا بنیای حصہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان سے مل کر کام کرے۔

پاکستان میں لگ بھگ 15 لاکھ انداج شدہ افغان مہاجرین آباد ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں ملک کے مختلف حصوں میں غیر انداج شدہ مہاجرین موجود ہیں۔

افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد 1980 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی پہلی مرتبہ آمد شروع ہوئی تھی۔ 2001 میں امریکہ کی طالبان حکومت کے خلاف کارروائی کے بعد ایک مرتبہ پھر جنگ سے بھاگنے والے افغان شہری بڑی تعداد میں پاکستان میں داخل ہوئے۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان میں مقیم تمام افغان پناہ گزینوں کی واپسی ملک کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں وہ اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین کے تعاون کے منتظر ہیں۔

حالیہ مہینوں میں پاکستانی حکام کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ کچھ افغان پناہ گزینوں کی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

منگل کو اقوام متحدہ کے کمشنر سے ملاقات میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھی افغان مہاجرین کی پاکستان سے واپسی پر زور دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی میں مثالی خیرسگالی اور فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کو درپیش سماجی و اقتصادی اور ترقی و ماحولیاتی چیلنجوں کے پیش نظر پاکستان میں افغان مہاجرین کی موجودگی قابل عمل آپشن نہیں۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سرتاج عزیز نے اس موقع پر کہا کہ ان چیلنجوں میں سکیورٹی کی نئی جہت کا اضافہ ہوا ہے جس کے باعث پاک افغان سرحد کی نگرانی بھی ضروری ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان نے طورخم کے مقام پر سرحدی چوکی پر آمدورفت کے نظام کو منظم بنانے کے لیے ایک گیٹ کی تعمیر شروع کی ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

پاکستانی عہدیداروں سے ملاقات میں اقوام متحدہ کے کمشنر فلیپو گرانڈی نے اتنی بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی میزبان میں پاکستان کے تعاون پر اس کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ مہاجرین کی افغانستان واپسی کے لیے سازگار ماحول پیدا کر کے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے گا۔

اسلام آباد آنے سے قبل فلیپو گرانڈی نے پناہ گزینوں کے عالمی دن کی مناسب سے مہاجرین اور ان کی میزبانی کرنے والے ممالک سے اظہار یکجہتی کے لیے ایران اور افغانستان کا دورہ کیا تھا۔

فلیپو گرانڈی نے بدھ کو پاکستان کے وزیر برائے سرحدی امور ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ سے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے معاملے پر تفصیلی مذاکرات بھی کیے۔

XS
SM
MD
LG