رسائی کے لنکس

پاکستان میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کے غیر مناسب طریقہ کار سے صحت عامہ اور ماحول کو لاحق خطرات پر ماہرین تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

ماحولیات کے تحفظ سے متعلق قومی ادارے ’پاک - ای پی اے‘ کے سربراہ آصف شجاع نے بتایا کہ پاکستان میں ہر روز تقریباً 90 ہزار ٹن استعمال شدہ ٹھوس اشیاء کچرے کی نذر ہوتی ہیں اور بلدیاتی ادارے اس کا صرف 56 فیصد حصہ اکٹھا کرکے مخصوص مقامات پر منتقل کرتے ہیں۔

لیکن اُنھوں نے کہا کہ اکٹھا کیے گئے کچرے کو بھی مناسب طور پر ٹھکانے لگانے کا طریقہ کار موجود نہیں جو انتہائی تشویش ناک امر ہے۔

’’اس میں تقریباً 250,000 ٹن سالانہ اسپتالوں کا فضلہ ہوتا ہے، اور اس کا 20 فیصد انتہائی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے لیے ہم اقدامات کر رہے ہیں، incinerator وغیرہ لگانے کے لیے کیوں کہ اس کو عام کچرے میں شامل کیا جا رہا ہے جو انتہائی خطر ناک ہے۔‘‘

آصف شجاع کے بقول جب سے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ’سی ڈی ایم‘ نامی بین الاقوامی مہم کا آغاز ہوا ہے اور لوگوں کو معلوم ہوا ہے کہ توانائی کے حصول کے لیے کچرے کو ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تو پاکستان میں بعض سیمنٹ فکٹریوں نے اس کا سود مند استعمال شروع کر دیا ہے۔

’’ہم سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں، کیوں کہ یہ صوبائی معاملہ ہے، تو لوگ فضلے سے توانائی کے حصول کی جانب متوجہ ہوں گے۔ اس طریقہ کار میں ایک طرح کا مفت ایندھن مل جاتا ہے اور کاربن کریڈٹ بھی مل جاتے ہیں جس سے آمدن بھی ہو جاتی ہے۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ لاہور میں ایک نجی کمپنی نے ٹھوس کچرے کو مواد کی بنیاد پر چھانٹنے اور اس میں سے قابل استعمال اشیاء کو علیحدہ کرکے باقی ماندہ کچرے کو ایندھن کے طور پر استعمال کا کامیاب منصوبہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

آصف شجاع نے اُمید ظاہر کی کہ مستقبل میں اس نوعیت کی کوششوں میں تیزی آئے گی۔

XS
SM
MD
LG