رسائی کے لنکس

71فیصد پاکستانی آبی قلت کا شکار

  • حسن سید

71فیصد پاکستانی آبی قلت کا شکار

71فیصد پاکستانی آبی قلت کا شکار

ایک تازہ غیر سرکاری جائزے کے مطابق اس وقت پاکستان کی دو تہائی سے زائد آبادی یعنی 71فیصد لوگ پانی کی قلت کا شکار ہیں جب کہ سرکاری سطح پر بھی اس تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں ملک کو آئندہ پانی کے سنگین بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔

گیلپ انٹرنیشنل سے منسلک گیلانی ریسرچ فاؤنڈیشن نے ملک بھر سے جو اعدادوشمار جمع کیے اس میں 37فیصد افراد کے مطابق ان کے علاقے میں پانی کا مسئلہ بہت شدید ہے،34فیصد کے مطابق مسئلہ کسی حد تک شدید ہے،25فیصد کے خیال میں انھیں پانی کا مسئلہ بالکل درپیش نہیں جب کہ چار فیصد نے کوئی جواب نہیں دیا۔

گیلپ پاکستان کی مدد سے سروے اپریل 2010ء میں منعقد ہوا جس میں شہری اور دیہی علاقوں میں 2723مرد اور خواتین سے پانی کی کمی سے متعلق پوچھا گیا ۔

دوسری طرف سرکاری اور غیر جانبدار ماہرین دونوں ہی فاؤنڈیشن کے اس جائزے سے نہ صرف متفق ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ملک کی سو فیصد آبادی کو ہی پانی کی قلت کا سامنا ہے ماسوائے اس طبقے کے جو خرید کریا دوسرے ذرائع سے پانی حاصل کرنے کی استعطاعت رکھتا ہے ۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ برائے آبی ذخائر کے ایک عہدیدار ڈاکٹر عبدالمجیدنے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ 1947میں قیام پاکستان کے وقت ملک میں فی کس پانی کی دستیابی 5800کیوبک میٹر تھی جو اب کم ہو کر فی کس1050سے1100کیوبک میٹر ہو چکی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس تناسب سے پاکستان آبی بحران کے بالکل دہانے پر ہے کیونکہ ایک ہزار کیوبک میٹر فی کس پانی کی دستیابی عالمی معیار کے مطابق متعین کردہ وہ حد ہے جسے چھونے والا ملک ”بحرانی صورتحال“ کے دائرے میں آیاہے۔

ڈاکٹر عبدالمجید کا کہنا تھا کہ پاکستانی کی موجودہ حالت میں جہاں موسمی تغیر کا رفرما ہے وہیں اس کی اہم وجوہات میں آبی ذخائر کی کمی اور آبادی میں ہرسال لاکھوں افراد کا اضافہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”ہمارے یہاں پانی کی اوسطاً دستیابی تو وہی رہے گی جو ہے اور یہ تقریباً 170ارب کیوبک میٹر سالانہ ہے۔

ان کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ پانی کو محفوظ کرنے کے لیے فوری طور پر آبی ذخائر تعمیر ہوں تاکہ نہ صرف بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات بلکہ زرعی اور صنعتی شعبے کے لیے بھی وافر پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت آبی ذخائر کافی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کل حاصل ہونے والے پانی کا صرف دس فیصد ہی ذخیرہ کرپاتا ہے جب کہ باقی 90فیصد سمندر میں بہا دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالمجید کے مطابق ”ہمارے ملک میں جولائی سے ستمبر تک مون سون کا موسم ہوتا ہے جس دوران بارشوں اور دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بڑھنے کے قدرتی عمل سے سال کا تقریباً 70سے 80فیصد پانی حاصل ہوتا ہے اور یہی وہ وقت ہے جب ہمیں پانی ذخیرہ کرنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں اس کے وسائل بہت ہی کم ہے“۔

XS
SM
MD
LG