رسائی کے لنکس

وزیرستان: بم دھماکے میں پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک

  • شمیم شاہد

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

قبائلی ذرائع کے مطابق شکتوئی کے علاقے میں یہ واقعہ بدھ کی صبح اس وقت پیش آیا جب ایک گاڑی کو سڑک میں نصب بم سے نشانہ بنایا گیا۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بم دھماکے میں ایک جنگجو کمانڈر سمیت کم ازکم پانچ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

قبائلی ذرائع کے مطابق شکتوئی کے علاقے میں یہ واقعہ بدھ کی صبح اس وقت پیش آیا جب ایک گاڑی کو سڑک میں نصب بم سے نشانہ بنایا گیا۔

بم دھماکے سے گاڑی تباہ اور اس پر سوار پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

مقامی قبائلیوں کے مطابق مرنے والوں کا تعلق طالبان کے خان سید سجنا گروپ سے تھا اور اُن میں ایک مقامی طالبان کمانڈر ابو حمزہ بھی شامل ہے۔

ہلاک ہونے والے دیگر افراد کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ بھی طالبان کے خان سید سجنا اور شہریار محسود گروپوں کے درمیان چپقلش کا شاخسانہ ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے گروپوں کے درمیان گزشتہ ماہ سے ہونے والی لڑائیوں میں اب تک درجنوں شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

طالبان کی طرف سے اپنے گروپوں کے درمیان صلح کی کوششیں کی گئی تھیں اور ان دونوں گروپوں نے لڑائی ختم کرنے پر آمادگی بھی ظاہر کی تھی۔

مبصرین کے مطابق شدت پسند گروپوں میں یہ لڑائیاں تحریک طالبان کی امارت پر پیدا ہونے والے اختلافات کی وجہ سے ہیں اور ان کا حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل پر بھی خاصا اثر پڑے گا۔

گزشتہ سال نومبر میں ایک ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد طالبان نے سوات سے تعلق رکھنے والے ملا فضل اللہ کو اپنا امیر منتخب کیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں روپوش ہے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں گزشتہ اتوار کی شب ایک بم دھماکے میں پاکستانی فوج کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد اس علاقے میں شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں کو گن شب ہیلی کاپٹروں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔
XS
SM
MD
LG