رسائی کے لنکس

قبائلی علاقے: تین اہلکار اور 35 شدت پسند ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

رزمک جانے والے فوجی قافلے میں شامل گاڑیوں کو دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنانے کے بعد شدت پسندوں نے اس پر راکٹ بھی داغے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے حملوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کارروائیوں میں تین اہلکار اور 35 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کے حملے میں کم ازکم تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق اتوار کی صبح رزمک جانے والے فوجی قافلے میں شامل گاڑیوں کو دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنانے کے بعد شدت پسندوں نے اس پر راکٹ بھی داغے۔

واقعے میں تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ادھر بنوں میران شاہ روڈ پر سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر دیسی ساختہ بم سے حملہ کیا گیا جس میں دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

سکیورٹی فورسز نے علاقے میں غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کرکے حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

شمالی وزیرستان میں اتوار کو سکیورٹی فورسز کے قافلے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں اور اس دوران علاقے میں اس دوران کرفیو نافذ رہتا ہے۔

دریں اثناء قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے دو روز تک جاری رہنے والی کارروائی میں 35 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے اور علاقے کو کلیئر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG