رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ میں پرتشدد کارروائیوں میں حالیہ اضافے کو مبصرین شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا ردعمل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسے مزید واقعات پیش آ سکتے ہیں۔

پاکستان کی فوج افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائیوں میں مصروف ہے اور اب تک حکام کی طرف سے اس میں قابل ذکر کامیابی حاصل ہونے کا کہا گیا ہے۔

فوج کی طرف سے اتوار کو جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ علی الصبح شدت پسندوں کے چھ ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا جب کہ کارروائی میں 28 جنگجو مارے گئے۔ حکام کے مطابق گزشتہ ماہ سے جاری فوجی کارروائی میں 475 سے زائد ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جب کہ مرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 26 ہے۔

شدت پسندوں کے خلاف طاقت کے استعمال کا ملک میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی صورت میں ممکنہ ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے اور اس کا کچھ عملی نمونہ رواں ہفتے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں پرتشدد واقعات میں اضافے کی صورت میں دیکھا بھی گیا ہے۔

رواں ہفتے پولیس اہلکاروں پر مختلف حملوں میں کم ازکم دس اہلکاروں سمیت 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ہنگو میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں چھ لوگ مارے گئے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا ہی ردعمل ہیں اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

خیبر پختونخواہ کے سابق چیف سیکرٹری خالد عزیز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ماضی میں بھی جب قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف فورسز کارروائیاں کرتی تھیں تو شہری علاقوں میں اسی طرح کا ردعمل دیکھنے میں آتا تھا۔

"جب بھی کسی علاقے میں فوجی کارروائی ہوتی ہے تو جو شدت پسند ہیں وہ علاقے سے نکل آتے ہیں اور دوسر ے شہروں میں اور علاقوں میں آجاتے ہیں۔۔۔جس طرح شمالی وزیرستان میں جب کارروائی ہوئی تو یہ کچھ لوگ پکتیا افغانستان بھی چلے گئے کچھ ڈی آئی خان، بنوں بھی گئے تو ضروری بات ہے کہ پشاور میں بھی پہنچے ہوں گے تو لہذا یہ اس آپریشن کے ساتھ ہی ہے۔"

ان کے بقول ان واقعات میں اضافہ کسی حد تک اداروں کی کمزوری اور ان میں رابطے کے فقدان کو بھی ظاہر کرتا ہے جسے ختم کرنے کے لیے سیاسی قیادت سمیت متعلقہ اداروں کو مزید مربوط کوشش کرنا ہوگی۔

تاہم سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کے مطابق اسے کسی بھی طرح سکیورٹی اداروں کی ناکامی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیئے۔

"پشاور چونکہ قبائلی علاقوں کے نزدیک ہے تو یہاں کارروائی کرنا نسبتاً آسان ہے اور میں نہیں سمجھتا ہے کہ اس میں کوئی سکیورٹی کا نقص ہے، پشاور پولیس چونکہ ان کے لیے آسان ہدف ہے تو یہ سب ہو رہا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن کی وجہ سے شدت پسند یا ان کے دوسرے ہمدرد اس طرح کی کارروائیاں کرتے ہیں اور ان میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

"جو جڑ تھی جہاں (شمالی وزیرستان) سے یہ سب ہو رہا تھا یا منصوبہ سازی ہورہی تھی ان (دہشت گردوں) کے لیے جگہ کم ہو رہی ہے تو پھر ایسی کارروائیوں کی توقع تو رکھنی چاہیئے۔"

خیبر پختونخواہ پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی فورس پوری طرح دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور ایسے عناصر کا بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا بھی یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام تباہ کردیا گیا ہے اور ملک کی سکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

XS
SM
MD
LG