رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سرد موسم میں مچھر عموماً گھروں کے اندر بھی افزائش پا سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے موسم سرما میں درجہ حرارت کم ہونے سے ڈینگی کے مرض میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہو سکتی ہے لیکن شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں نے لوگوں کو اس مرض سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی تلقین کی ہے۔

ڈینگی ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جس سے متاثرہ شخص تیز بخار اور بعد ازاں خون کے سرخ خلیوں کی تشویشناک حد تک کمی کے باعث اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو سکتا ہے۔

حالیہ برسوں میں ڈینگی کے مریضوں کی زیادہ تعداد آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں دیکھنے میں آئی لیکن رواں برس صوبہ خیبر پختونخواہ کے پرفضا مقام سوات میں بھی یہ مرض وبائی شکل اختیار کر گیا جہاں سینکڑوں لوگ اس بخار میں مبتلا ہو کر اسپتالوں میں آئے۔

پنجاب کے شعبہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ظفر اکرام نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ حکومت ڈینگی سے بچاؤ کے لیے تمام اقدامات بروئے کار لا رہی ہے لیکن لوگوں کو خود بھی اس مرض سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانا ہوں گی۔

سرد موسم میں مچھروں کی افزائش میں کمی سے اس مرض کی صورتحال میں کمی کے بارے میں ان کا کہنا تھا۔

’’ اس سال بارشیں بھی زیادہ ہوئیں پھر اکتوبر کے اختتام تک درجہ حرارت بھی اس طرح سے کم نہیں ہوا تو اسی لیے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، لیکن ابھی جب درجہ حرارت کم ہونا شروع ہوگا تو اس کے اثرات آٹھ سے دس دنوں میں نظر آنا شروع ہوں گے۔‘‘

ڈاکٹر ظفر اکرام نے بتایا کہ رواں برس پنجاب میں لگ بھگ ایک ہزار ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں ایک بڑی تعداد لاہور اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔

عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سرد موسم میں مچھر عموماً گھروں کے اندر بھی افزائش پا سکتے ہیں کیونکہ باہر کی نسبت گھروں اور عمارتوں کے اندر کا درجہ حرارت ان کی افزائش کے لیے موزوں ہوتا ہے۔

انھوں نے بھی تنبیہ کی کہ لوگوں کو چاہیے کہ حتی الامکان حفاظتی تدابیر پر عمل کریں تاکہ اس مرض سے محفوظ رہا جاسکے۔

ڈینگی کا مچھر صاف پانی پر افزائش پاتا ہے اور عموماً صبح اور شام کے اوقات میں انسان پر حملہ آور ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گھروں میں صاف پانی ذخیرہ کرنے والے برتنوں اور ٹینکی کو ڈھانپ کر رکھیں، گملوں یا کیاریوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔ مچھروں کو دور رکھنے والی کوائل کا استعمال کریں۔
XS
SM
MD
LG