رسائی کے لنکس

کراچی میں موسلادھار بارش کے باعث زندگی مفلوج


کراچی میں موسلادھار بارش کے باعث زندگی مفلوج

کراچی میں موسلادھار بارش کے باعث زندگی مفلوج

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ میں بارشوں کے نئے سلسلے سے وہاں پہلے سے موجود 53 لاکھ سے زائد سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جب کہ امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

صوبائی دارالحکومت اور ملک کے اقتصادی مرکز کراچی میں کئی گھنٹوں سے جاری شدید بارشں کے باعث شہر کے اکثر علاقوں میں کئی فٹ تک پانی کھڑا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے منگل کو شہر میں تعلیمی ادارے، بینک اور مختلف کاروباری مراکز بند ہیں۔

ضلعی حکام نے بتایا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں اب 50 سے 100 ملی میٹر کے درمیان بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے اور شہر کی بڑی شاہراہوں پر پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے گاڑیاں بند ہو گئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں بدھ کو بھی بارش جاری رہنے کا امکان ہے جب کہ اندرون سندھ متاثرہ اضلاع میں آئندہ دو روز کے دوران بھی بارشیں جاری رہیں گی۔

دریں اثناء سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے بین الاقوامی امداد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد کی اپیل کے جواب میں عارضی پناہ گاہیں اور ادویات بھیجی جا رہی ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کی نیوز کانفرنس میں بتایا گیا کہ امریکہ اپنے امدادی ادارے ’یو ایس ایڈ‘ کت توسط سے پاکستان میں تین لاکھ 46 ہزار افراد تک خوارک پہنچائے گا جب کہ خیموں اور دیگر امدادی سامان بھی 5,500 خاندانوں تک پہنچایا جائے گا۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق امریکی امداد میں 8,000 خیمے بھی شامل ہیں جب کہ پانچ لاکھ متاثرین تک طبی امداد کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق اب تک چین، ایران اور جاپان بھی ہنگامی امداد کی فراہمی کا اعلان کر چکے ہیں۔

پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنوبی صوبہ سندھ میں غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سے لاکھوں افراد میں وبائی امراض پھیل سکتے ہیں۔

صوبہ سندھ میں مون سون بارشوں سے اب تک سرکاری طور پر 209 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

صوبہ سندھ میں غیر معمولی بارشوں سے 45 لاکھ ایکڑ رقبہ زیر آب آ چکا ہے جب کہ 17 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی نقد آور فصلیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں 64 ہزار مال مویشی ہلاک یا سیلابی پانی میں بہہ کر لاپتا ہو گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG