رسائی کے لنکس

سیاچن گلیشئیر پر برف باری اور یخ بستہ ہواؤں میں تیزی آنے کے بعد برف تلے دب جانے والے 138 پاکستانیوں کی تلاش کی مہم مشکلات سے دوچار ہو گئی ہے اور ماہرین نے آئندہ دو روز تک موسمی حالات بہتر نا ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔

گیاری سیکٹر میں ہفتہ کو طلوع آفتاب سے قبل پاکستانی فوج کے ایک بٹالیئن ہیڈکوارٹرز پر ضخیم برفانی تودہ گرنے سے اس تنصیب کی عمارت 80 فٹ برف تلے دب گئی۔ اس حادثے کی زد میں آنے والوں میں 124 فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

پاکستان میٹیورولاجیکل ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر غلام رسول نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ متاثرہ علاقے میں وقفے وقفے سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور سرد ہوائیں چلنے کی وجہ سے اوسط درجہ حرارت نقطہ انجماد سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ رواں ہفتے کے اواخر سے موسم چند روز کے لیے مجموعی طور پر سازگار رہے گا اور اس دوران صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک مستعدی سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ہو سکیں گے۔

ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا تھا کہ ملک کے شمالی پہاڑی سلسلوں میں برفانی تودے گرنے کے واقعات عمومی طور پر مئی اور جون میں پیش آتے ہیں جب موسم گرم ہونے کی وجہ سے برف کا پگھلاؤ شروع ہوتا ہے اور دراڑوں میں پانی کے رساؤ کے باعث کمزور چٹانوں کی شکستگی تودوں کا سبب بنتی ہے۔

’’اپریل کے اوائل میں اتنے بڑے پیمانے پر برفانی تودہ گرنا انتہائی غیر معمولی اور خلاف توقع ہے۔‘‘

گیاری سیکٹر میں پیش آنے والے واقعے کی ممکنہ وجوہات پر اظہار خیال کرتے ہوئے ماہرِ موسمیات کا کہنا تھا کہ حالیہ موسم سرما میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں جہاں سیاچن گلیشئیر بھی واقع ہے، برف باری معمول سے 25 فیصد زیادہ ہوئی اور اس کی مقدار خصوصاً سیاچن پر خاصی زیادہ تھی۔

’’میٹامورفیزم (درجہ حرارت یا دباؤ کے باعث ہیئت میں تبدیلی) کی وجہ سے یہ برف گلیشئیر کا حصہ بھی بنتی رہی، اس لیے گلیشئیرز کے لیے یہ بڑا صحت افزا موسم سرما تھا۔‘‘

ڈاکٹر غلام رسول کے بقول اس برف باری کی وجہ سے کمزور چٹانوں پر برف کے وزن میں اضافہ ہوا اور بظاہر یہی عوامل گیاری سیکٹر میں برفشار کا باعث بنے۔

’’ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم ان سب پہاڑی سلسلوں پر بحیثیت مجموعی برف باری 15 سے 25 فیصد زیادہ ہوئی ہے جس کی وجہ سے خطے میں (آنے والے دنوں میں) ہر جگہ ہی برفانی تودے گرنے کے خطرات ہیں۔‘‘

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG