رسائی کے لنکس

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر طوفان پچھلے طوفان کے مقابلے میں زیادہ شدید اور خوفناک ثابت ہو رہا ہے جس کی وجہ کرہ ارض پر موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں تشویش ناک اضافہ ہے۔

حالیہ برسوں میں امریکہ کو اپنی تاریخ کے بڑے سمندری طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ہری کین سینڈی بھی اُسی سلسلے کی کڑی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر طوفان پچھلے طوفان کے مقابلے میں زیادہ شدید اور خوفناک ثابت ہورہا ہے جس کی وجہ کرہ ارض پر موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں تشویش ناک اضافہ ہے۔

پاکستان میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل عارف محمود کہتے ہیں کہ مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ میں ہونے والی صنعتی ترقی سمندری طوفانوں میں تسلسل کی ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔

’’کہیں بارشیں زیادہ ہو رہی ہیں تو کہیں بارشوں میں بہت کمی آئی ہے۔ اب امریکہ میں کچھ عرصے سے قحط سالی کی سی صورتحال ہے جبکہ ہری کین کے تسلسل میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ یہ سب موسمی تبدیلی کے اثرات ہیں۔‘‘

لیکن عارف محمود کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں دنیا کے کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں ہیں۔

’’یہ اثرات صرف امریکہ تک ہی محدود نہیں۔ پاکستان قدرتی آفات کا شکار رہا ہے۔ چین میں اس سال بارشیں معمول سے زیادہ ہوئی ہیں جبکہ گزشتہ سال تھائی لینڈ میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر سیلاب آئے۔‘‘

پاکستان میں اس سال مون سون کی بارشوں سے جنوبی صوبہ سندھ اور جنوب مغربی بلوچستان میں سیلابوں میں لگ بھگ 500 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 50 لاکھ لوگ متاثر ہوئے۔

عارف محمود کہتے ہیں کہ پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہاں پر اس نوعیت کے سمندری طوفان بہت کم آئے ہیں جن کا سامنا امریکہ کو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات کو روکا تو نہیں جا سکتا لیکن اگر صنعتی ترقی کے باعث فضائی آلودگی کو کم اور جنگلات میں اضافہ کیا جائے تو سمندری طوفان اور دیگر ایسی آفات کے تسلسل اور اُن کی شدت کو کم کرنے میں یقیناً مدد ملے گی۔
XS
SM
MD
LG