رسائی کے لنکس

پاکستان کا جماعت الاحرار پر امریکی پابندی کا خیرمقدم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یہ گروہ پاکستان میں مختلف ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے جن میں رواں سال مارچ میں ایسٹر کے موقع پر لاہور کے گلشن اقبال پارک میں مہلک بم حملہ بھی شامل ہے جس میں 70 افراد ہو گئے تھے۔

پاکستان نے امریکہ کی طرف سے کالعدم تحریک طالبان کے ایک منحرف شدت پسند گروپ 'جماعت الاحرار' کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

بدھ کو امریکی محکمہ خارجہ نے جماعت الاحرار پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اس گروپ اور اس سے وابستہ کسی بھی شخص کی حمایت کرنے والوں کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور امریکی شہریوں اور اداروں کو ایسے افراد سے لین دین کی ممانعت ہو گی۔

2014ء میں پاکستانی طالبان سے علیحدہ ہونے والے شدت پسندوں نے جماعت الاحرار نامی گروپ بنایا تھا اور یہ گروہ پاکستان میں مختلف ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے جن میں رواں سال مارچ میں ایسٹر کے موقع پر لاہور کے گلشن اقبال پارک میں مہلک بم حملہ بھی شامل ہے جس میں 70 افراد ہو گئے تھے۔

یہ دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے طالبان کے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان میں مہلک ترین حملہ تھا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ امریکہ نے جماعت الحرار پر پابندی عائد کی ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے تحریک طالبان پاکستان اور اس کی طرح دیگر گروپوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے جو افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں۔

نفیس ذکریا کے بقول جماعت الحرار کے جنگجوؤں نے افغانستان میں رہتے ہوئے وہاں سے دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کر کے پاکستان کے اندر کئی حملے کیے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں بتایا گیا کہ جماعت الاحرار پاکستان میں عام شہریوں، مذہبی اقلیتوں، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں کے علاوہ رواں سال مارچ میں پشاور میں امریکی قونصل کے دو پاکستانی کارکنوں کی ہلاکت کا بھی ذمہ دار ہے۔

گزشتہ ماہ ہی کراچی میں پاکستانی فوج کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتارنے کی ذمہ داری بھی جماعت الاحرار نے ہی قبول کی تھی۔

پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جون 2014ء سے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اور اس دوران خصوصاً افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں سمیت 3600 عسکریت کو ہلاک اور ان کے سیکڑوں ٹھکانوں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

امریکہ سمیت مغربی دنیا دہشت گردی کے خلاف پاکستانی فورسز کی کارروائیوں کو سراہتی اور اس میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا اعتراف کرتی ہے لیکن امریکی کانگریس کے ارکان کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی صرف اپنے لیے خطرہ سمجھے جانے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے جب کہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک اب بھی یہاں "محفوظ پناہ گاہیں" قائم کیے ہوئے ہیں۔

تاہم پاکستان ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG