رسائی کے لنکس

پاکستان کی طرف سے شام میں جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم


پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ

تاہم بیان کے مطابق پاکستان کو شام میں انسانی بحران پر بدستور تشویش ہے اور وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس بارے میں بشمول پناہ گزینوں کے مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان نے شام میں جنگی کارروائیوں کو روکنے کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس تنازع میں اپنے غیر جانبدارانہ موقف پر قائم ہے۔

امریکہ اور روس نے شام میں مخاصمانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس پر شامی حکومت اور حزب مخالف نے بھی رضامندی ظاہر کی تھی اور یہ ہفتہ سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ شام کے معاملے پر وہ اپنے اصولی موقف پر قائم ہے جو کہ اس ملک کی جغرافیائی خودمختاری اور سالمیت کا احترام کرتے ہوئے غیر جانبداری پر مبنی ہے۔

تاہم بیان کے مطابق پاکستان کو شام میں انسانی بحران پر بدستور تشویش ہے اور وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس بارے میں بشمول پناہ گزینوں کے مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے ملک کی طرف سے شام کے معاملے پر بین الاقوامی معاون گروپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

تقریباً پانچ سال سے شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالفین نے ہتھیار اٹھا رکھے ہیں اور ملک میں خانہ جنگی جاری ہے جس کی وجہ سے اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک اور ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بے گھر ہو کر پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکا ہے۔

2014ء میں شدت پسند گروپ داعش نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عراق کے علاوہ شام کے ایک وسیع رقبے پر قبضہ کر کے قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا جس سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی زیر قیادت اتحادی ممالک کے ساتھ ساتھ روس نے بھی یہاں اپنی فضائی کارروائیاں شروع کیں۔

جنگ بندی معاہدے کے اطلاق کے باوجود ہفتہ کو تشدد کے چند واقعات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صوبہ حما میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں کم ازکم دو فوجی ہلاک ہو گئے جب کہ ترک سرحد کے قریب باغیوں اور سرکاری فورسز میں جھڑپ کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔

جنگ بندی معاہدے کا اطلاق شام کے تنازع کے تمام فریقین پر ہوگا لیکن اس میں داعش اور القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنائے جانے کی ممانعت نہیں۔

XS
SM
MD
LG