رسائی کے لنکس

پاکستان بھارت کے ساتھ ہمسایوں جیسے تعلقات کے لیے پرعزم


پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ

دونوں ملکوں نے اپنے اپنے ہاں قید ایک دوسرے کے ماہی گیروں کو رہا کرنے کا اعلان بھی کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے 113 بھارتی ماہی گیروں کراچی جیل سے رہا کردیا۔

پاکستان نے پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کی جانی والی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان امن خطے میں ترقی و سلامتی کے لیے بہت اہم ہے۔

بدھ کو اقوام متحدہ نے امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بھارت دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے جب کہ رواں ہفتے ہی امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری نے پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کو فون کر کے دونوں ہمسایہ ملکوں کے تعلقات میں تناؤ پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔

جمعرات کو پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ ان کا ملک بھارت کے ساتھ اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات کے اپنے عزم پر قائم ہے اور تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔

"پاکستان خطے میں تمام ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے اور بھارت کے ساتھ ماضی میں ہمارے مذاکرات ہوتے رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس خطے میں امن کو فروغ دیں کیونکہ امن خطے کے لیے بہت اہم ہے اس کا فائدہ خطے کے تمام لوگوں کو ہوگا۔ اس سلسلے میں کوئی بھی پیش رفت ہو گی تو ہم اس کو خوش آمدید کہیں گے۔"

منگل کو دیر گئے ہی پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا جسے حالیہ مہینوں میں دوطرفہ تعلقات میں در آنے والی کشیدگی میں کمی کا اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔

دونوں ملکوں نے اپنے اپنے ہاں قید ایک دوسرے کے ماہی گیروں کو رہا کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

پاکستان نے 113 بھارتی ماہی گیروں کو کراچی جیل سے رہا کردیا ہے جب کہ بھارت کی طرف سے ابھی تک پاکستانی ماہی گیروں کو رہا کرنے کی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG