رسائی کے لنکس

امریکی یقین دہانی ’پولیو مہم کے لیے خوش آئند ہے‘


پولیو کے خاتمے کی نگرانی کے لیے قائم وزیراعظم کے خصوصی سیل کے عہدیدار ڈاکٹر الطاف بوسن نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں امریکی یقین دہانی کا خیر مقدم کیا۔

پاکستان میں محکمہ صحت کے عہدیداروں نے وائٹ ہاؤس کی طرف سے اس عزم کا خیر مقدم کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے جاسوسی کی کارروائیوں میں ویکسینیشن پروگرامز کی آڑ نہیں لے گی۔

2011ء میں پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کےروپوش سربراہ اسامہ بن لادن کی موجودگی کی تصدیق کے لیے سی آئی اے نے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے ہیپاٹائٹس کی جعلی ویکسینیشن مہم شروع کی تھی جس کا مقصد بن لادن کے جینیاتی نمونے یعنی ڈی این اے حاصل کرنا تھا۔

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد ڈاکٹر آفریدی کو پاکستانی حکام نے حراست میں لے لیا لیکن شدت پسندی کے شکار ملک میں اس خبر سے انسداد پولیو کی کوششوں کو بری طرح نقصان پہنچا۔

پولیو کے خاتمے کی نگرانی کے لیے قائم وزیراعظم کے خصوصی سیل کے عہدیدار ڈاکٹر الطاف بوسن نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں امریکی یقین دہانی کا خیر مقدم کیا۔

"ہمارے لیے جو بھی چیز فائدے مند ہو گی اس کا بالکل خیر مقدم کریں گے، یہی تو بات ہے جس کو ہم کہہ رہے ہیں کہ جو صحت سے متعلق معاملات ہیں انھیں صحت تک ہی محدود رہنا چاہیئے نہ کہ ان کو کسی اور چیز سے جوڑا جائے، ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اس صورتحال سے پاکستان کو کافی کچھ برداشت کرنا پڑا ہے۔"

سال 2012ء کے اواخر سے ملک کے مختلف حصوں میں شدت پسند پولیو سے بچاؤ کے قطروں کو اسلام کے خلاف مغربی سازش اور جاسوسی کا ایک حربہ قرار دیتے ہوئے انسداد پولیو کی ٹیموں پر جان لیوا حملے کرتے آرہے ہیں۔

جہاں ان حملوں میں اس مہم سے وابستہ 50 سے زائد رضاکار اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں وہیں رواں سال پولیو وائرس سے متاثرہ کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اب تک سال 2013ء میں پولیو کے 66 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ان ہی خدشات کی وجہ سے پاکستان میں انسداد پولیو کی مہم متعدد بار تعطل کا شکار بھی ہوئی جس سے وائرس کے مکمل خاتمے کے اہداف کے حصول میں حکومت کو شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان سے پولیو وائرس کی دنیا کے دیگر ملکوں کو منتقلی کو روکنے کے لیے عالمی ادارہ صحت نے حال ہی میں پاکستانیوں کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کرنے کی بھی سفارش کی تھی۔
XS
SM
MD
LG