رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ خوراک کے ترجمان نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ یا ملک کے دیگر علاقوں میں اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیاں تا حال جاری ہیں اور یہ عارضی بندش صرف جلوزئی کیمپ تک محدود ہے۔

سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اقوام متحدہ نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں شدت پسندوں کے خلاف قبائلی علاقوں میں جاری لڑائی سے متاثر ہونے والے خاندانوں کے لیے قائم جلوزئی کیمپ میں امدادی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے ترجمان امجد جمال نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ نوشہرہ شہر کے قریب اس کیمپ میں متاثرین اور انہیں امداد فراہم کرنے والے اہکاروں کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جا رہا ہے جس کے بعد ہی وہاں امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی جانب سے مقامی اور صوبائی انتظامیہ سے رابطے بھی کیے گئے اور سکیورٹی سے متعلق ضروری اور فعال اقدامات کرنے پر بات چیت کی جاری ہے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ نے سربراہ ٹیمو پکالا نے اپنے ایک بیان میں جلوزئی کیمپ اور ایسے دیگر تمام حملوں کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے حکومت سے متاثرین کے کیمپس اور امدادی کارکنوں کی حفاظت کے لیے فوری اور موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

امجد جمال کے مطابق جلوزئی کمیپ میں موجود 12 ہزار پانچ سو متاثرہ خاندانوں میں سے بیشتر کو آئندہ ماہ کا راشن اور دیگر ضروریات کی اشیاء گزشتہ روز کے دھماکے سے پہلے ہی فراہم کر دی گئی تھیں اور انہوں نے امید ظاہر کی امداد کی ترسیل میں تعطل آئندہ چند روز میں ختم ہو جائے گا۔

’’ان کیمپس میں زندگی کا کوئی بہتر آرام دہ ماحول تو نہیں ہوتا اور اوپر سے ایسی واقعات سے متاثرہ خاندانوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ہماری کوشش ہے کہ یہ لوگ واپس اپنے گھروں کو چلے جائیں لیکن جب تک یہاں پر ہیں ہم ان کی ہر ممکن امداد کریں گے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ یا ملک کے دیگر علاقوں میں اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیاں تا حال جاری ہیں اور یہ عارضی بندش صرف جلوزئی کیمپ تک محدود ہے۔

کالعدم عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے گزشتہ ہفتے حکومت کو اپنی مذاکرات کی مشروط پیش کش واپس لینے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد صوبہ خیبر پختونخواہ میں شدت پسندوں کی طرف سے متعدد کارروائیاں کی گئیں۔

حال ہی میں خیبر پختونخواہ کے سابق گورنر مسعود کوثر اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے نمائندے آئندہ انتخابات سے پہلے اور اس کے دوران سکیورٹی سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

ڈبلیو ایف پی کے ترجمان امجد جمال کہتے ہیں ’’ہمارے کام کا سیاسی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہی ہم نے وہاں سے کوئی ووٹ لینا ہے۔ ہمارا کام انسانی بنیادوں پر ہے جیسے حالات بہتر ہوتے ہیں ہم شروع کردیں گے۔‘‘

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے نائب صدد اجمل خان وزیر کہتے ہیں کہ شدت پسندوں کی جاری کارروائیاں افسوس ناک ہیں اگرچہ اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ اس بم دھماکے کا نشانہ متاثرین ہیں یا انہیں امداد فراہم کرنے والے کارکن۔

’’یہ جو کچھ ہو رہا ہے ہمارے ملک اور لوگوں کے لیے اچھا تو نہیں ہو رہا۔ (دہشت گردی کے) خطرات تو اب بھی موجود ہیں اور آئندہ انتخابات میں جانے سے پہلے اس کا سد باب کرنا چاہیے تھا جوکہ نہ حکومت نے کیا اور نہ حزب اختلاف نے۔ یہ ہماری سب سے بڑی بد قسمتی ہے۔‘‘

ملک میں ایک دہائی سے جاری دہشت گردی کے انسداد کے لیے متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کی غرض سے دو کل جماعتی کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا جن میں شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی حمایت تو کی گئی مگر بظاہر طریقہ کار پر اتفاق نا ہو سکا کیونکہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں یہ مذاکرات ملک کے آئین و قانون کے تحت چاہتی تھیں جبکہ مذہبی اور دائیں بازو کی جماعتیں مذاکرات کے لیے پیشگی شرائط عائد کرنے کی حامی نہ تھیں۔
XS
SM
MD
LG