رسائی کے لنکس

پاکستان میں پولیو کے خاتمے لیے کوششیں تیز


عالمی ادارہ صحت کے عہدیداران اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں

عالمی ادارہ صحت کے عہدیداران اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں

عالمی ادارہ صحت یعنی ’ڈبلیو ایچ او‘نے منگل کو پاکستان کے معروف سماجی کارکن عبدالستارایدھی کے فلاحی ادارے کے ساتھ مل کر انسداد پولیو کی مہم کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک معاہدے کا اعلان بھی کیا گیا۔

پاکستان کا دورہ کرنے والے ڈبلیو ایچ او کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر علل علوان ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس اقدام سے پولیو کے خاتمے کے لیے جاری مہم میں مدد ملے گی۔

اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کے لیے اپنے ریکارڈ شدہ بیان میں عبدالستار ایدھی کا کہنا تھا کہ اپریل سے انسداد پولیو کی مہم میں ایدھی فاؤنڈیشن کی تمام ایمبولینس گاڑیاں، تمام مراکز صحت اور تنظیم کے ملازمین بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔

’’مجھے یہ سن کر انتہائی تعجب ہوا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی پولیو ویکسین کے بارے میں مختلف شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، جن میں کچھ مذہبی اور سماجی نوعیت کے ہیں جب کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ویکسین نے سعودی عرب، ایران، عراق، فلسطین اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اس بیماری کا خاتمہ کیا ہے‘‘۔

عبدالستار ایدھی

عبدالستار ایدھی

ڈاکٹر علل علوان ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں اور انھوں نے انسداد پولیو کی قومی مہم کو موثر بنانے کے لیے سرکاری عہدیداروں کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں اور سماجی کارکنوں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے اور عالمی سطح پر اس کا شکار ہونے والے کل بچوں میں سے نصف پاکستانی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے عہدے داروں نے اس موقع پر صوبہ خیبر پختونخواہ میں انسداد پولیو کی مہم میں مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں ستمبر 2009ء کے بعد سے اب پولیو کے خاتمے کے مہم کے تحت پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے نہیں پلائے جا سکیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG