رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ شمالی و جنوبی وزیرستان میں گزشتہ سال جولائی سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جاسکے

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے پاکستان میں انسداد پولیو کی مہم شدید متاثر ہوئی ہے اور دو لاکھ چالیس ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین نہیں پلائی جاسکی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں قائم مقام سربراہ ڈاکٹر نیما سعید عابد کا کہنا ہے کہ خاص طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی و جنوبی وزیرستان میں گزشتہ سال جولائی سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین نہیں پلائی گئی۔

افغان سرحد سے ملحقہ یہ قبائلی علاقے طالبان شدت پسندوں کا مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سلامتی کے خطرات اور پولیو ویکسین کےخلاف پروپیگنڈہ کے باعث پولیو ٹیموں کو کام کرنے میں شدید دشواری کا سامنا رہا ہے۔

افغانستان اور نائیجیریا کے علاوہ پاکستان دنیا کا وہ تیسرا ملک ہے جہاں انسانی جسم کو اپاہج کردینے والے پولیو وائرس پر تاحال پوری طرح سے قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

ڈاکٹر نیما کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں، سندھ میں کراچی کے بعض حصوں، صوبہ بلوچستان میں کوئٹہ، قلعہ عبداللہ اور پشین کے علاقوں میں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال اب تک پولیو سے متاثرہ پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو کہ سندھ میں کراچی، خیبر پختونخواہ میں بنوں، مالاکنڈ اور مردان جب کہ پنجاب میں میانوالی کے علاقے سے رپورٹ ہوئے۔

پاکستان میں پولیو کے خلاف مہم 1994 سے جاری ہے اور اس وائرس پر قابو پانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے خاطر خواہ نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔ 2011ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 198 پولیو کیسز سامنے آئے تھے جب کہ گزشتہ سال ان کی تعداد 58 تھی۔

لیکن حالیہ مہینوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو کی ٹیموں پر ہونے والے ہلاکت خیز حملوں کی وجہ سے نہ صرف یہ مہم بارہا معطل کی گئی بلکہ اس ضمن میں معاونت کرنے والے بعض بین الاقوامی امدادی اداروں نے بھی ملک میں اپنی کارروائیوں کو وقتی طور پر بند کر دیا تھا۔

گزشتہ دسمبر سے لے کر اب تک کراچی اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات میں خواتین رضاکاروں سمیت اس مہم سے وابستہ 15 افراد کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

پولیو سے بچاؤ کی اس مہم میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکنے کی ایک بڑی وجہ لوگوں میں اس بارے میں پائے جانے والے مختلف منفی رجحانات بھی ہیں جن کو دور کرنے کے لیے مقامی و بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ آگاہی مہم کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان میں پولیو ٹیموں کے تحفظ کے لیے حال ہی حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ انسداد پولیو کی بیک وقت ملک گیر مہم کی بجائے مختلف علاقوں میں مختلف اوقات میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں اور اس کے علاوہ پولیو ٹیموں میں شامل رضا کاروں کی حفاظت کے لیے اُن کے ہمراہ پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG