رسائی کے لنکس

سیاسی اور فوجی قائدین سنسنی خیز انکشافات کی زد میں

  • ن ہ

مولانا فضل الرحمن، وزیراعظم گیلانی، نواز شریف

مولانا فضل الرحمن، وزیراعظم گیلانی، نواز شریف

ناقدین کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کے انکشافات نے اس تاثر کی بھی بظاہر نفی کی ہے کہ پاکستان کے سیاسی معاملات میں جنرل کیانی نے فوج خصوصاََ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے کردارکو تقریباََ ختم کردیا ہے۔ اس کے برعکس وکی لیکس کے مراسلوں میں مغربی سفارت کاروں کے بقول پردے کے پیچھے رہ کر جنرل کیانی حکومت اور پارلیمان کو فوج کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

وکی لیکس کے سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان سے متعلق افشا کی گئی معلومات مقامی میڈیا پر موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

مبصرین اِن سفارتی مراسلوں کے منظر عام پر آنے کے بعدایک طرف تو اُن مشکلات کا تذکرہ کر رہے ہیں جو اپنی خارجہ پالیسی کے فروغ میں آنے والے دِنوں میں امریکہ کو پیش آسکتی ہیں تو دوسری طرف اُن کے بقول یہ پیش رفت پاکستان میں سیاسی اور فوجی قائدین کے لیے بھی ’شرمندگی‘ کا باعث بنی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ہر جلسے اور پریس کانفرنس میں امریکہ کی مذمت کرنے والے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی نومبر 2007 ء میں اسلام آباد میں اُس وقت امریکہ کی سفیراین پیٹرسن سے ایک ملاقات میں ملک کا وزیراعظم بننے کے لیے امریکہ سے حمایت کرنے کی درخواست کی تھی۔

عوامی حلقوں میں امریکہ پر تنقید کرنے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف بھی امریکی سفارت کاروں سے ملاقاتوں میں انھیں یہ یقین دہانی کرانے کی کوششیں کرتے رہے کہ وہ امریکہ مخالف نہیں بلکہ اُس کے حامی ہیں۔

صدر زرداری اور جنرل کیانی

صدر زرداری اور جنرل کیانی

وکی لیکس کے انکشافات نے صدر آصف علی زرداری کے اُن بیانات کی بھی بظاہر تصدیق کر دی ہے جن میں وہ ان خدشات کا اظہار کرتے رہے تھے کہ اُنھیں منصب صدارت سے ہٹانے کے لیے قتل کرنے کی سازش ہور ہی ہے۔

امریکی اخبار نیویار ک ٹائمز نے وکی لیکس کی جاری کردہ تازہ سفارتی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نائب امریکی صدر جو بائیڈن سے ایک ملاقات میں پاکستانی صدر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ انھیں ختم کرنے کے درپے ہیں۔ وہ میڈیا کو دیے گئے بیانات میں بھی بار بار ان خدشات کا اظہار کرتے رہے اور بقول صدر زرداری کے انھیں ”ایوان صدر سے ایمبولینس میں رخصت کرنے کی تیاریاں کی جار رہی ہیں“۔

لیکن پاکستانی صدر کے خدشات بظاہر بے بنیاد نہیں تھے کیونکہ وکی لیکس کے جاری کردہ ایک سفارتی مراسلے کے مطابق مارچ 2009 ء میں جب سیاسی بحران اپنے عروج پر تھا اُس وقت جنرل کیانی نے امریکی سفیر کو بتایا کہ وہ نا چاہتے ہوئے بھی صدر زرداری کو مستعفی ہونے اور پاکستان چھوڑنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اس ملاقات میں اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کو صدر بنانے کا ذکر بھی کیا تھا۔

اسفندیارولی

اسفندیارولی

وکی لیکس کے مطابق اس ملاقات میں ”کیانی نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ قطع نظر اس کے کہ وہ زرداری کو پسند نہیں کرتے، انھیں (نواز) شریف پر بھی اعتماد نہیں تھا۔“

امریکی سفیر نے فروری 2010 ء میں بھیجے جانے والے اپنے سفارتی مراسلے میں کہا تھا کہ ”پاکستان کی سیاسی حکومت بدستور کمزور، غیر موثر اور بدعنوان ہے ۔ صدر زرداری کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی ملکی سیاست پر غالب ہے۔“

ناقدین کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کے انکشافات نے اس تاثر کی بھی بظاہر نفی کی ہے کہ پاکستان کے سیاسی معاملات میں جنرل کیانی نے فوج خصوصاََ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے کردارکو تقریباََ ختم کردیا ہے۔ اس کے برعکس وکی لیکس کے مراسلوں میں مغربی سفارت کاروں کے بقول پردے کے پیچھے رہ کر جنرل کیانی حکومت اور پارلیمان کو فوج کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اے این پی کی سیاست کے بنیادی نکات میں بیشتر ملکی مسائل کی وجہ فوج کو قرار دینا شامل ہے۔ لیکن جنرل کیانی کی طرف سے عہدہ صدارت کے لیے اسفندیار ولی کے نام کی تجویز جماعت کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔

قومی اسمبلی

قومی اسمبلی

سابق خارجہ سیکرٹری شمشاد احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وکی لیکس کے انکشافات اگرچہ متعلقہ شخصیات کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں لیکن اس بات کے کوئی امکانات نہیں کہ پاکستان میں حکمران طبقہ اس شرمندگی کو محسوس کرے۔”ہمارے ہاں شرمندگی اس لیے نہیں کیوں کہ ہمارے ہاں سیاست دانوں کی جو نسل ہے اُن پرشرمندگی نام کی کوئی چیز اثر نہیں کر سکتی۔ اُن کی نا عزت ہے اور نا عزت نفس۔“

اُنھوں نے انتباہ کیا کہ سیاسی جماعتوں کو آئندہ عام انتخابات میں ان انکشافات کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور، ” اس مرتبہ انتخابات میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔“

XS
SM
MD
LG