رسائی کے لنکس

اسکول جانے پر بچوں کو دھمکانے والوں کو شکست دیں گے: نواز شریف


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی اُمور امین الحسنات نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس بات پر ملک بھر میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کی یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قوم کا عزم غیر متزلزل ہے اور وہ عناصر جو بچوں کو اسکول جانے پر دھمکا رہے ہیں اُنھیں شکست دی جائے گی۔

پیر کو وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی شریک تھے۔

اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت کی جانے والی کارروائیوں اور اس ضمن میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر کامیابی سے عمل درآمد ضروری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی کو ملک کے ہر کونے سے ختم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے میں 21 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے طالبان کمانڈر نے ملک میں تعلیمی اداروں پر مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔

بظاہر اسی دھمکی اور دہشت گردی کے خطرے کے باعث ملک کے مختلف شہروں خاص طور پر صوبہ پنجاب میں گزشتہ ہفتے تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔

پیر کو پنجاب میں سرکاری تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے گئے تاہم بعض پرائیویٹ اسکول بند رہے۔

اُدھر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ کے تحت گزشتہ سال کے آغاز سے اب تک ملک کے مختلف صوبوں میں شدت پسندی میں ملوث ہونے کے شبہے میں 182 مدارس کو بند کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی اُمور امین الحسنات نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس بات پر ملک بھر میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کی یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔

دریں اثنا پاکستان کے مرکزی بینک نے کالعدم شدت پسند تنظیموں سے تعلق کے شبہے میں 126 بینک کھاتے منجمد کر دیے، سرکاری میڈیا کے مطابق منجمد کیے بینک کھاتوں میں لگ بھگ ایک ارب روپے موجود تھے۔

انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل ہی کے تحت نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے علاوہ منافرت پر مبنی کتابیں و تشہیری مواد فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG