رسائی کے لنکس

افغان الیکشن، سرحد کی سخت نگرانی کا اعلان


دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم

دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ انتخابات کی کامیابی کے لیے افغان الیکشن حکام کی کوششوں میں دوست ممالک بھی بھرپور تعاون کریں گے۔

پاکستان نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ شدت پسندوں کی طرف سے حملوں کی دھمکیوں کے باوجود افغان عوام صدارتی اور صوبائی کونسل کے انتخابات میں بھر پور شرکت کریں گے۔

افغانستان میں پانچ اپریل کو صدارتی انتخابات ہونا ہیں جس کے لیے آٹھ اُمیدوار میدان میں ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پڑوسی ملک میں انتخابات افغان عوام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستان افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دوران سرحد پر نگرانی سخت رکھے گا۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ بطور افغان عوام کے دوست اور خیر خواہ کے پاکستان افغانستان میں کامیاب انتخابات کے انعقاد اور پرامن انتقال اقتدار کا خواہاں ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ انتخابات کی کامیابی کے لیے افغان الیکشن حکام کی کوششوں میں افغانستان میں موجود اس کے دوست ممالک بھی بھرپور تعاون کریں گے۔

اُدھر کابل میں ایک افغان صحافی عبد الحئی وارشان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عوام انتخابات میں شرکت کے لیے پر جوش ہیں۔

’’لوگ چاہتے ہیں کہ ہر قیمت پر انتخابات میں حصہ لیں۔۔۔ سلامتی کے خدشات کے باوجود لوگوں نے اپنے گھروں سے نکل کر اپنے پسندیدہ اُمیدوار کی حمایت کی اور اُمیدواروں نے بھی ہر جگہ پہنچ کر لوگوں سے ووٹ مانگا۔‘‘

افغانستان میں طالبان نے انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے کی دھمکی دے رکھی ہے اور حالیہ دنوں میں کابل کے حساس علاقے میں ملک کے خود مختار الیکشن کمیشن کے صدر دفتر سمیت کئی دیگر اہم مقامات پر بھی مہلک حملے کیے۔

انتخابات کے دوران امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانے کے لیے افغانستان نے فوج، پولیس اور خصوصی فورس کے لگ بھگ تین لاکھ اہلکاروں کو تعینات کر رکھا ہے۔
XS
SM
MD
LG