رسائی کے لنکس

ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت کی تحقیقات کی جارہی ہیں: پاکستان


ترجمان تسنیم اسلم (فائل فوٹو)

ترجمان تسنیم اسلم (فائل فوٹو)

ترجمان کے بقول اگر شرپسند عناصر ایرانی سرزمین پر جرم کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہوئے ہیں تو انھیں گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

پاکستان نے اپنی سرحد کے قریب ایرانی علاقے میں آٹھ ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات کے لیے اگر ایرانی عہدیداروں کے پاس کوئی معلومات ہیں تو وہ پاکستان سے اس کا تبادلہ کریں۔

ایک روز قبل ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے صوبہ سیستان بلوچستان کے نائب گورنر سے منسوب خبر دی تھی جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی سرحد عبور کر کے آنے والے مسلح افراد نے ان کے آٹھ اہلکاروں کو ہلاک کیا اور واپس پاکستانی علاقے کی طرف فرار ہوگئے تھے۔

بدھ کو پاکستانی دفترخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ایک بیان میں کہا کہ متعلقہ پاکستانی سکیورٹی ایجنسیز ایرانی حدود میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں اور انھوں نے ایرانی عہدیداروں سے بھی اس بارے میں شواہد کا تبادلہ کرنے کا کہا ہے۔

ترجمان کے بقول اگر شرپسند عناصر ایرانی سرزمین پر جرم کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہوئے ہیں تو انھیں گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ ایرانی محافظوں کی ہلاکت پر پاکستانی حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین اور ایران کی حکومت سے دلی افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

ماضی میں بھی ایران اور پاکستان کی سرحد پر ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جو دونوں ملکوں کے تعلقات میں کسی حد تک تناؤ کا باعث بھی بنتے رہے۔ لیکن اعلیٰ سطحی رابطوں میں ان معاملات پر تبادلہ خیال اور ایسے واقعات کے تدارک کے لیے لائحہ عمل کو موثر بنانے کے عزم کے بعد تعلقات میں تلخی زیادہ دیر برقرار نہیں رہی۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب کہ بدھ کو ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG