رسائی کے لنکس

ججوں اور گواہوں کو تحفظ حاصل ہونا چاہیئے: چیف جسٹس


چیف جسٹس افتخار محمد چودھری (فائل فوٹو)

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری (فائل فوٹو)

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چار اور ہر صوبے میں ہائی کورٹ کا ایک ایک جج انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہے

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ہفتہ کو اعلٰی عدلیہ کے ججوں نے انسداد دہشت گردی سے متعلق دائر مقدمات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس نے کہا کہ مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف دائر مقدمات کی سماعت کرنے والے ٹرائل کورٹ کے ججوں اور گواہوں کو تحفظ حاصل ہونا چاہیئے۔

اُنھوں نے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف تحقیقات کے عمل کو موثر بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ ایسے شواہد پیش کیے جائیں جن کی بنیاد پر عدالتیں ملزمان کو سزائیں سنا سکیں۔
’’عدالتوں کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ذیلی عدالتوں میں جو شواہد پیش کیے جاتے ہیں وہ نا کافی ہوتے ہیں جس کے وجہ سے ملزمان سزاؤں کے بغیر ہی بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چار اور ہر صوبے میں ہائی کورٹ کا ایک ایک جج انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہے اور جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے وہاں ان ذیلی عدالتوں کی مدد کے لیے احکامات بھی جاری کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں اراکین پارلیمان اور آئینی ماہرین ان خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے مقدموں میں ملوث ملزمان کو ملک میں رائج موجودہ قوانین کے تحت سزائیں دلوانا ایک مشکل عمل ہے کیوں کہ عدالتیں ٹھوس شواہد کا تقاضا کرتی ہے اور ایسے مقدمات میں عموماً گواہان شہادت دینے سے کتراتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں ملک کے شمال مغربی علاقوں خصوصاً وادی سوات اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں مشتبہ جنگجوؤں کو حراست میں لیا گیا ہے اور اُن پر مقدمات بھی چلائے جا رہے ہیں لیکن تاحال کسی سرکردہ شدت پسند کو سزا نہیں مل سکی ہے۔
XS
SM
MD
LG