رسائی کے لنکس

’’عورتوں پر تشدد کے واقعات کا اندراج کم ہوا ہے رجحان نہیں‘‘

  • حسن سید

’’عورتوں پر تشدد کے واقعات کا اندراج کم ہوا ہے رجحان نہیں‘‘

’’عورتوں پر تشدد کے واقعات کا اندراج کم ہوا ہے رجحان نہیں‘‘

رپورٹ کے مطابق 2009ء کی نسبت 2010ء میں عورتوں پر تشدد کے واقعات اگرچے مجموعی طور پر چھ فیصد کم رپورٹ ہوئے لیکن اغواء کے واقعات میں بارہ اور قتل کے واقعات میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی مقامی غیر سرکاری تنظیم نے اپنی رپورٹ میں اگرچہ سال2009ء کی نسبت 2010ء میں عورتوں پر تشدد کے واقعات میں چھ فیصد تک کمی ظاہر کی ہے لیکن رپورٹ کی مصنفہ اور تجزیہ کار ڈاکٹر رخشندہ پروین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ کسی بھی طرح تشدد کے رجحان میں کمی کا ثبوت نہیں کرتا۔

’’کمی تو صرف اعداد و شمار میں سامنے آئی جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے واقعات سامنے لانے والے ذرائع دبا دیے گئے ہوں، خواتین پر تشدد کا رجحان تو یقینا بڑھ رہا ہے‘‘۔

عورت فاؤنڈیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ کے تجزیے میں بتایا ہے کہ 2008ء میں عورتوں پر تشدد کے کل سات ہزار پانچ سو اکہتر واقعات رپورٹ ہوئے۔

2009ء میں یہ بڑھ کر آٹھ ہزار پانچ سو اڑتالیس ہوگئے جبکہ 2010ء میں پھر کم ہو کر آٹھ ہزار پر آ گئے۔

اطلاعات کی وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان

اطلاعات کی وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان

اطلاعات کی وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان عورتوں پر ظلم و تشدد کے خاتمے کے سلسلے میں اپنی حکومت کے عزم کو دہراتے ہوئے یہ اعتراف بھی کرتی ہیں کہ مسئلے کی سنگینی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستانی معاشرہ انتہا پسندی کے خطرے سے دوچار ہے اس تناظر میں ان کے بقول خواتین سمیت ہر وہ طبقہ تشدد کا شکار ہو رہا ہے جو نسبتاً کمزور ہے۔

وفاقی وزیر کی رائے میں خواتین پر تشدد کا خاتمہ صرف قانون سازی سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ جہالت اور فرسودہ روایات کا خاتمہ کیا جائے اور علماء کرام ان دینی پہلوؤں پر زیادہ سے زیادہ رہنمائی کریں جن کی آڑ میں عورتوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال عورتوں پر تشدد کے واقعات اگرچہ مجموعی طور پر کم رپورٹ ہوئے لیکن اغواء کے واقعات میں بارہ اور قتل کے واقعات میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

قتل اور اغواء عورتوں پر تشدد کے واقعات میں گذشتہ تین سالوں سے سر فہرست ہیں۔

گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل، انفرادی اور اجتمائی زیادتی، تیزاب پھینکنے اور جلانے سمیت تشدد کی دوسری اقسام کے واقعات کم رپورٹ ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عورتوں پر تشدد کے لحاظ سے لاہور سر فہرست رہا جہاں ایک ہزار سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد بالترتیب فیصل آباد، سرگودھا، شیخو پورہ، راولپنڈی، پشاور، قصور، اوکاڑہ، ملتان، سیالکوٹ، خیر پور، گجرانوالہ، چکوال اور ساہیوال سر فہرست ہیں۔

رپورٹ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کراچی جہاں تشدد اور جرائم میں تواتر سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ان پندرہ اضلاع میں شامل نہیں جہاں عورتوں پر تشدد سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہاں پرخواندگی اور آگاہی ملک کے کئی دیگر حصوں کی نسبت زیادہ اورذرائع ابلاغ زیادہ متحرک ہے۔

XS
SM
MD
LG