رسائی کے لنکس

پاکستانی خواتین کو بااختیار بنانے کے عمل میں کئی مراحل باقی


پاکستانی معاشرے میں خواتین ماضی کے مقابلے میں آج بہتر مقام پر ہیں مگر با اختیار بننے کے اس عمل میں اب بھی بہت سے مراحل طے کرنا باقی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جمعرات کو کراچی میں امریکی قونصل خانے کے زیرِ اہتمام ایک مذاکرے کے شرکاء نے کیا۔

’’خواتین کی معاشرے میں آزادی اور برابری‘‘ کے عنوان سے منعقد کیے گئے اس مذاکرے میں مختلف شعبوں میں اہم خدمات انجام دینے والی خواتین کے علاوہ شہر کی بڑی جامعات کی طالبات نے بھی شرکت کی۔

تقریب کا آغاز شاعرہ عذرا عباس نے اپنی ایک نظم سے کیا جس میں خواتین کا اپنی زندگی سے متعلق فیصلوں پر اختیار نا ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

مذاکرے کے پینل میں موجود خواتین کا کہنا تھا کہ تعلیم سے لے کر روزگار تک خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحتیں منوا رہی ہیں اور اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

شرکاء کے مطابق ابھی بھی دیہی علاقوں کی اکثر خواتین خود پر ہونے والے مظالم کو روک نہیں سکتی ہیں اور ان کو با اختیار بنانے کے لیے پڑھی لکھی خواتین کو آگے آکر معاشرے کی ترقی کے لیے وقت دینا ہوگا۔

شیما کرمانی

شیما کرمانی

اس موقع پر معروف فنکارہ اور تحریکِ نسواں کی سرگرم کارکن شیما کرمانی نے خواتین سے متعلق مختلف اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صرف صوبہ سندھ میں ہر سال 10,000 لڑکیوں کی جبری شادیاں ہوتی ہیں جب کہ 30,000 عورتیں غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ہاتھوں زچگی کے دوران ہی ہلاک ہو جاتی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر گھنٹے تین عورتیں زچگی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تھیٹر کے ذریعے ہر عورت کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں تبدیلی خود لے کر آئیں اور اپنے حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائیں۔

تقریب میں شامل قائم مقام امریکی قونصل جنرل کیون مک مرمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انھیں حال ہی میں آسکر حاصل کرنے والی پاکستانی خاتون شرمین عبید چنائے کی کامیابی پر بے حد خوشی ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی خواتین ہر شعبے میں کام کرکے نہ صرف معاشرے کو بہتر بنا رہی ہیں بلکہ دنیا بھر میں فخر کا باعث بن رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کی طری اس سال بھی انٹر نیشنل وومن آف کریج ایوارڈ ایک پاکستانی خاتون کو مل رہا ہے۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اس تقریب کا اختتام شیما کرمانی کی پرفارمنس پر ہوا جس میں انھوں نے خواتین کے حقوق کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا کھیل ’اسیر شہزادی‘ پیش کیا۔

XS
SM
MD
LG